کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: دعوت میں بن بلائے مہمان کا حکم
حدیث نمبر: 3219
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا شُعَيْبٍ كَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً لَعَلِّي أَدْعُو النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَصَنَعَ لَهُ طعيما ثمَّ أتها فَدَعَاهُ فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا شُعَيْبٍ إِنَّ رَجُلًا تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ تركته» . قَالَ: لَا بل أَذِنت لَهُ
الشیخ عبدالستار الحماد
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انصار کا ایک آدمی تھا جس کی کنیت ابوشعیب تھی، اس کا ایک غلام قصاب تھا، اس نے کہا: میرے لیے کھانا تیار کرو جو کہ پانچ افراد کے لیے کافی ہو، تاکہ میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دعوت دوں کہ آپ ان میں سے پانچویں ہوں، اس نے اس کے لیے مختصر سا کھانا تیار کیا، پھر وہ (ابوشعیب) آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو دعوت دی، تو ایک اور (چھٹا) آدمی ان کے ساتھ آنے لگا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’ابوشعیب! ایک اور آدمی ہمارے ساتھ آ رہا ہے، اگر تم چاہو تو اسے اجازت دے دو اور اگر چاہو تو اسے چھوڑ دو۔ ‘‘ اس نے عرض کیا: کوئی نہیں! اسے بھی اجازت ہے۔ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب النكاح / حدیث: 3219
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5461) و مسلم (2036/138)»