کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: جاہلیت کے باطل نکاح؟
حدیث نمبر: 3177
وَعَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي خَمْسُ نِسْوَةٍ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «فَارِقْ وَاحِدَةً وَأَمْسِكْ أَرْبَعًا» فَعَمَدْتُ إِلَى أَقْدَمِهِنَّ صُحْبَةً عِنْدِي: عَاقِرٍ مُنْذُ سِتِّينَ سنة ففارقتها. رَوَاهُ فِي شرح السّنة
الشیخ عبدالستار الحماد
نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے اسلام قبول کیا تو اس وقت میری پانچ بیویاں تھیں، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’ایک کو چھوڑ دو اور چار رکھ لو۔ ‘‘ میں نے ان میں سے اپنی سب سے پہلی بیوی کو، جو بانجھ تھی اور ساٹھ سال سے میری رفیقہ حیات تھی، خود سے جدا کر دیا۔ اسنادہ ضعیف، رواہ فی شرح السنہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب النكاح / حدیث: 3177
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (90/9. 91 ح 22899) [و الشافعي 351/2: أخبرنا بعض أصحابنا عن أبي الزناد إلخ و من طريقه البيھقي (184/7) و ھذا البعض مجھول]»