کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے کل کی بات نہیں جانتے تھے
حدیث نمبر: 3140
عَن الرّبيع بنت معوذ بن عَفْرَاءَ قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ حِينَ بُنِيَ عَلَيَّ فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كمجلسك مني فَجعلت جويرات لَنَا يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِذْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَالَ: «دَعِي هَذِهِ وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
الشیخ عبدالستار الحماد
رُبَّیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، جب مجھے شادی کے بعد میرے خاوند کے گھر لایا گیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور میرے بستر پر اس طرح بیٹھ گئے جس طرح آپ (حدیث کے راوی خالد بن ذکوان) مجھ سے (دور) بیٹھے ہیں، پس انصار کی چھوٹی چھوٹی بچیاں دف بجا کر میرے ان اباء جو غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے، کے محاسن بیان کرنے لگیں، کہ اچانک ان میں سے ایک نے کہہ دیا: ہم میں ایک نبی ہیں، جو مستقبل کے واقعات جانتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اسے چھوڑو، اور جو تم پہلے کہہ رہی تھیں وہی کہو۔ ‘‘ رواہ البخاری۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب النكاح / حدیث: 3140
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5147)»