کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: ہیجڑوں کی گھروں میں آمد جائز نہیں
حدیث نمبر: 3121
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ فَقَالَ: لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ لَكُمْ غَدًا الطَّائِفَ فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى ابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يدخلن هَؤُلَاءِ عَلَيْكُم»
الشیخ عبدالستار الحماد
ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے جبکہ گھر میں ایک مخنث تھا، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے بھائی عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا: عبداللہ! اگر اللہ نے کل تمہیں طائف میں فتح عطا کی تو میں تمہیں غیلان کی ایک لڑکی بتاؤں گا وہ جب سامنے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بل پڑتے ہیں اور جب مڑتی ہے تو اس پر آٹھ بل پڑتے ہیں۔ اس پر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’یہ (مخنث) لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں۔ ‘‘ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب النكاح / حدیث: 3121
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفق عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4324) و مسلم (2180)»