حدیث نمبر: 2928
وَعَن سعد بن الأطول قَالَ: مَاتَ أَخِي وَتَرَكَ ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ وَتَرَكَ وَلَدًا صِغَارًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن أخلك مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهِ فَاقْضِ عَنْهُ» . قَالَ: فَذَهَبْتُ فَقَضَيْتُ عَنهُ وَلم تبْق إِلَّا امْرَأَةٌ تَدَّعِي دِينَارَيْنِ وَلَيْسَتْ لَهَا بَيِّنَةٌ قَالَ: «أعْطهَا فَإِنَّهَا صَدَقَة» . رَوَاهُ أَحْمد
الشیخ عبدالستار الحماد
سعد بن اطول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میرا بھائی فوت ہو گیا اور اس نے تین سو دینار اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑے، میں نے ارادہ کیا کہ میں (یہ رقم) ان پر خرچ کروں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: ’’تیرا بھائی اپنے قرض کی وجہ سے محبوس ہے، (پہلے) اس کی طرف سے قرض ادا کرو۔ ‘‘ وہ بیان کرتے ہیں۔ میں گیا اور اس کی طرف سے قرض ادا کیا، پھر میں واپس آیا تو عرض کیا، اللہ کے رسول! میں نے اس کی طرف سے سارا قرض ادا کر دیا ہے، صرف ایک عورت باقی رہ گئی ہے جو دو دینار کا مطالبہ کرتی ہے۔ جبکہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے دے دو کیونکہ وہ سچی ہے۔ ‘‘ سندہ ضعیف، رواہ احمد۔