کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے تھے ؟
حدیث نمبر: 2518
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلَّا الَّتِي كَانَتْ مَعَ حَجَّتِهِ: عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ
الشیخ عبدالستار الحماد
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار عمرے کیے ہیں وہ سب ذوالقعدہ میں کیے، بجز اس عمرہ کے جو آپ نے حج کے ساتھ کیا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک عمرہ حدیبیہ سے ذوالقعدہ میں کیا، ایک عمرہ اگلے سال ذوالقعدہ میں کیا، ایک عمرہ جعرانہ سے جہاں آپ نے حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا وہ بھی ذوالقعدہ میں اور ایک عمرہ اپنے حج کے ساتھ کیا۔ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب المناسك / حدیث: 2518
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4148) و مسلم (1253/217)»