کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: قرآن مجید پڑھ کر لوگوں سے سوال کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2216
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَاصٍّ يَقْرَأُ ثُمَّ يَسْأَلُ. فَاسْتَرْجَعَ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فليسأل الله بِهِ فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ أَقوام يقرؤون الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ بِهِ النَّاسَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ
الشیخ عبدالستار الحماد
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک واعظ کے پاس سے گزرے جو کہ قرآن پڑھتا، پھر کچھ طلب کرتا، اس پر انہوں نے (انا للہ وانا الیہ راجعون) پڑھا پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جو شخص قرآن پڑھے تو وہ اللہ سے طلب کرے، کیونکہ ایسے لوگ بھی آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے اور اس کے عوض لوگوں سے سوال کریں گے۔ ‘‘ سندہ ضعیف۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2216
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (432/4. 433 ح 21026) والترمذي (2917 وقال: حسن) ¤٭ سليمان الأعمش والحسن البصري مدلسان و عنعنا .»