کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: قرآن کو یاد رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2188
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: بئس مالأحدهم أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ نُسِّيَ وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ مُسلم: «بعقلها»
الشیخ عبدالستار الحماد
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’کسی کے لیے یہ کہنا بہت ہی برا ہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ (یوں کہے) مجھے بھلا دی گئی ہے، قرآن یاد کرتے رہا کرو کیونکہ وہ آدمیوں کے سینوں سے نکل جانے میں کھلے ہوئے اونٹوں سے بھی زیادہ تیز ہے۔ ‘‘ بخاری، مسلم۔ اور امام مسلم نے: ((بعقلھا)) کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2188
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5032) و مسلم (790/228)»