کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی فراست ایمانی
حدیث نمبر: 1907
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جِئْتُ فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ. فَكَانَ أَوَّلُ مَا قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلام» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي
الشیخ عبدالستار الحماد
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ تشریف لائے تو میں بھی (آپ کی زیارت کے لیے) آیا، جب میں نے غور کے ساتھ آپ کا چہرہ مبارک دیکھا تو میں نے پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے شخص کا چہرہ نہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلے فرمایا: ’’لوگو! اسلام عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات کے وقت، جبکہ لوگ سو رہے ہوں، نماز پڑھو، (اس طرح) تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ ‘‘ صحیح، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الزكاة / حدیث: 1907
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (2485 وقال: صحيح) و ابن ماجه (1334) و الدارمي (340/1. 341 ح1668)»