کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: تسبیح پڑھنا بھی صدقہ ہے
حدیث نمبر: 1898
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: «أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهِ وِزْرٌ؟ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أجر» . رَوَاهُ مُسلم
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، ہر تمحید صدقہ ہے، ہر تہلیل (لا الہ الا اللہ کہنا) صدقہ ہے، امر بالمعروف صدقہ ہے، برائی سے منع کرنا صدقہ ہے اور تمہارا اپنی اہلیہ سے جماع کرنا صدقہ ہے۔ ‘‘ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرتا ہے تو اس پر اسے اجر ملے گا؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’مجھے بتاؤ، اگر وہ حرام طریقے سے شہوت پوری کرتا تو کیا اس پر گناہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ حلال طریقے سے اسے پورا کرے گا تو اسے اجر ملے گا۔ ‘‘ رواہ مسلم۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الزكاة / حدیث: 1898
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيحٌ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1006/53)»