کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: بخیل اور سخی کے لیے مثال
حدیث نمبر: 1864
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدُيِّهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدقَة انبسطت عَنهُ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلقَة بمكانها»
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی مثال ہے جن پر لوہے کی زرہیں ہیں، اور ان کے ہاتھ ان کے سینے اور ہنسلی تک بندھے ہوئے ہیں، جب صدقہ کرنے والا صدقہ کرتا ہے تو وہ زرہ کشادہ ہوتی چلی جاتی ہے، اور جب بخیل صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ تنگ ہو جاتی ہے اور ہر کڑی اپنی جگہ پر آ جاتی ہے۔ ‘‘ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الزكاة / حدیث: 1864
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1443) و مسلم (1021/75)»