کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: اوپر والا ہاتھ نیچے والے سے بہتر ہے
حدیث نمبر: 1842
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ. وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى» . قَالَ حَكِيمٌ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا
الشیخ عبدالستار الحماد
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ نے مجھے عطا کر دیا، پھر میں نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے مجھے عطا کر دیا، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: ’’حکیم! یہ مال سرسبزو شیریں ہے، جس نے سخاوت نفس کے ساتھ اسے حاصل کیا تو اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے، اور جس نے حرص و طمع کے ساتھ اسے حاصل کیا تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں دی جاتی، اور وہ اس شخص کی مانند ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا، اور اوپر والا ہاتھ نچلے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ ‘‘ حکیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں آپ کے بعد زندگی بھر کسی سے کوئی چیز نہیں مانگوں گا۔ ‘‘ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الزكاة / حدیث: 1842
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفق عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1472) و مسلم (1035/96)»