کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: اغنیاء جن کے لیے زکٰوۃ جائز ہے
حدیث نمبر: 1833
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ لِغَارِمٍ أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ أَوْ لِرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ فَتَصَدَّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ فَأَهْدَى الْمِسْكِين للغني . رَوَاهُ مَالك وَأَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
عطاء بن یسار ؒ مرسل روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’پانچ اشخاص کے سوا کسی مال دار شخص کے لیے صدقہ حلال نہیں: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، صدقات وصول کرنے والا، کسی شخص کو تاوان دینا پڑ جائے، وہ شخص جو اپنے مال کے ذریعے اس (صدقہ کی چیز) کو خرید لے، یا وہ شخص جس کا پڑوسی مسکین ہو اور اسے صدقہ دیا جائے اور وہ مسکین شخص مال دار شخص کو بطور ہدیہ بھیج دے۔ ‘‘ صحیح، رواہ مالک و ابوداؤد۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الزكاة / حدیث: 1833
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: لم تتمّ دراسته , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه مالک (26831 ح 608) و أبو داود (1635)»