کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: ہدیہ اور صدقہ و زکٰوۃ کی تحقیق کرنی چاہیے
حدیث نمبر: 1824
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ: «أَهَدْيَةٌ أَمْ صَدَقَةٌ؟» فَإِنْ قِيلَ: صَدَقَةٌ: قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «كُلُوا» وَلَمْ يَأْكُلْ وَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ ضَرَبَ بِيَدِهِ فَأَكَلَ مَعَهم
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کوئی کھانے کی چیز پیش کی جاتی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے: ’’کیا یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟‘‘ اگر بتایا جاتا کہ صدقہ ہے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ سے فرماتے: ’’تم کھاؤ۔ ‘‘ اور آپ خود نہ کھاتے، اور اگر بتایا جاتا کہ ہدیہ ہے تو آپ اپنا ہاتھ بڑھاتے اور ان کے ساتھ کھاتے۔ متفق علیہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الزكاة / حدیث: 1824
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2576) و مسلم (1077/175)»