کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: راستے کی ناپاکی کے باوجود مسجد میں حاضری
حدیث نمبر: 512
وَعَن امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِد مُنْتِنَة فَكيف نَفْعل إِذا مُطِرْنَا قَالَ: «أَلَيْسَ بعْدهَا طَرِيق هِيَ أطيب مِنْهَا قَالَت قلت بلَى قَالَ فَهَذِهِ بِهَذِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الشیخ عبدالستار الحماد
بع عبدلاشہل کی ایک خاتون بیان کرتی ہیں میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! مسجد کی طرف ہمارا جو راستہ ہے وہ انتہائی گندہ اور بدبو دار ہے جب بارش ہو جائے تو پھر ہم کیا کریں؟ وہ بیان کرتی ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’کیا اس کے بعد اس سے کوئی زیادہ بہتر اور پاکیزہ راستہ نہیں؟‘‘ میں نے عرض کیا جی ہاں ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اس کی نجاست اس سے دور ہو جاتی ہے۔ ‘‘ صحیح، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الطهارة / حدیث: 512
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (384) [وابن ماجه: 533]»