کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: والدین اولاد کو دین کی ضروری باتوں کی تعلیم دیں
حدیث نمبر: 347
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ أُعَلِّمُكُمْ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَأَمَرَ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ وَنَهَى أَنْ يَسْتَطِيبَ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
الشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’میں تمہارے لیے اسی طرح ہوں جس طرح والد اپنے بچے کے لیے ہوتا ہے، میں تمہیں سکھا سکتا ہوں، جب تم بول و براز کے لیے جاؤ تو قبلہ کی طرف منہ کرو نہ پشت، آپ نے (استنجا کے لیے) تین پتھر استعمال کرنے کا حکم فرمایا، آپ نے لید اور ہڈی سے (استنجا کرنے سے) منع فرمایا اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔ ‘‘ حسن، رواہ ابن ماجہ و الدارمی۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الطهارة / حدیث: 347
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه ابن ماجه (313) والدارمي (172/1 ح 680) [و أبو داود (8) والنسائي (38/1 ح 40) ]»