حدیث نمبر: 266
وَعَنْ سُفْيَانَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِكَعْبٍ: مَنْ أَرْبَابُ الْعِلْمِ؟ قَالَ: الَّذِي يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ. قَالَ: فَمَا أَخْرَجَ الْعِلْمَ مِنْ قُلُوبِ الْعُلَمَاءِ؟ قَالَ الطَّمَعُ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ
الشیخ عبدالستار الحماد
سفیان الثوری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اہل علم کون ہیں؟ انہوں نے کہا: جو اپنے علم کے مطابق عمل کرتے ہیں، پھر پوچھا: کون سی چیز علما کے دلوں سے علم نکال دیتی ہے؟ انہوں نے کہا: (دنیا کا) طمع۔ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 267
وَعَن الْأَحْوَص بن حَكِيم عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ سلم عَنِ الشَّرِّ فَقَالَ: «لَا تَسْأَلُونِي عَنِ الشَّرِّ وَسَلُونِي عَنِ الْخَيْرِ» يَقُولُهَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: -[89]- «أَلَا إِنَّ شَرَّ الشَّرِّ شِرَارُ الْعُلَمَاءِ وَإِنَّ خير الْخَيْر خِيَار الْعلمَاء» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
احوص بن حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: کسی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھ سے شر کے بارے میں مت پوچھو۔ مجھ سے خیر کے بارے میں پوچھو۔ ‘‘ آپ نے تین مرتبہ ایسے فرمایا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’سن لو! سب سے بڑا شر علمائے سوء ہیں، اور سب سے بڑی خیر علمائے خیر ہیں۔ ‘‘ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 268
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: " إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ: عَالِمٌ لَا ينْتَفع بِعِلْمِهِ ". رَوَاهُ الدَّارمِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’روز قیامت اللہ کے ہاں سب سے بُرا مقام اس عالم کا ہو گا جو اپنے علم سے فائدہ حاصل نہیں کرتا۔ ‘‘ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 269
وَعَن زِيَاد بن حدير قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: هَلْ تَعْرِفُ مَا يَهْدِمُ الْإِسْلَامَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا. قَالَ: يَهْدِمُهُ زَلَّةُ الْعَالِمِ وَجِدَالُ الْمُنَافِقِ بِالْكِتَابِ وَحُكْمُ الْأَئِمَّةِ المضلين ". رَوَاهُ الدِّرَامِي
الشیخ عبدالستار الحماد
زیاد بن حُدیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: کہ تم جانتے ہو کون سی چیز اسلام کی عزت میں کمی کرتی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے فرمایا: عالم کی لغزش، منافق کا قرآن کے ساتھ جدال کرنا اور گمراہ حکمرانوں کا فیصلے کرنا۔ ‘‘ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 270
وَعَن الْحسن قَالَ: «الْعِلْمُ عِلْمَانِ فَعِلْمٌ فِي الْقَلْبِ فَذَاكَ الْعلم النافع وَعلم على اللِّسَان فَذَاك حُجَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ابْنِ آدَمَ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: علم کی دو اقسام ہیں، ایک علم دل میں ہے، وہ علم نفع مند ہے، اور ایک علم زبان پر ہے، وہ اللہ عزوجل کی ابن آدم کے خلاف حجت ہو گی۔ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 271
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ فِيكُمْ وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ يَعْنِي مجْرى الطَّعَام» رَوَاهُ البُخَارِيّ
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (علم کے) دو ظروف یاد کیے، ان میں سے ایک میں نے تمہارے درمیان نشر کر دیا، رہی دوسری قسم تو اگر میں اسے نشر کردوں تو میرا گلا کاٹ دیا جائے۔ اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے۔