کتب حدیثمشكوة المصابيحابوابباب: گمراہ اور کج فکروں کی ایک علامت
حدیث نمبر: 151
‏‏‏‏وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَات محكمات) ‏‏‏‏وَقَرَأَ إِلَى: (وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ) ‏‏‏‏قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِذَا رَأَيْتَ وَعِنْدَ مُسْلِمٍ: رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّاهُمُ الله فاحذروهم " ‏‏‏‏ 
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے آپ پر یہ کتاب نازل کی، اس کی بعض آیتیں صاف واضح ہیں اور محکم ہیں۔ ‘‘ اور یہاں تک تلاوت فرمائی: ’’اور وعظ و نصیحت کو صرف وہی لوگ سمجھتے ہیں جو عقل مند ہیں۔ ‘‘ تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جب تو دیکھے۔ ‘‘ جبکہ مسلم کی روایت میں ہے: ’’جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو مختلف معانی کی متحمل آیات تلاش کرتے ہیں، تو وہ ایسے لوگ ہیں جن کا اللہ نے (دلوں میں کجی رکھنے والے) نام رکھا ہے، تو تم ان سے بچو۔ ‘‘ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 151
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: متفق عليه , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4547) و مسلم (1/ 2665)»