حدیث نمبر: 19
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ -[14]- أَهْلِ النَّارِ فَقُلْنَ وَبِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرجل الحازم من إحداكن قُلْنَ وَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ قُلْنَ بَلَى قَالَ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَان عقلهَا أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تَصِلِّ وَلَمْ تَصُمْ قُلْنَ بَلَى قَالَ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
الشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدالاضحی یا عیدالفطر کے موقع پر عید گاہ کی طرف تشریف لائے تو آپ خواتین کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ’’خواتین کی جماعت! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں تمہاری اکثریت دیکھی ہے۔ ‘‘ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کس وجہ سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو، میں نے تم سے زیادہ کسی کو دین اور عقل میں نقص رکھنے کے باوجود پختہ رائے مرد کی عقل کو لے جانے والا نہیں پایا۔ ‘‘ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے دین اور ہماری عقل کا کیا نقصان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا عورت کی گواہی، مرد کی گواہی سے نصف نہیں؟‘‘ انہوں نے کہا: جی ہاں، کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ اس کی عقل کا نقص ہے۔ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا جب اسے حیض آتا ہے تو اس وقت وہ نماز اور روزہ ترک نہیں کرتی؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ایسے ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ اس کے دین کے نقص میں سے ہے۔ ‘‘ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے ۔