وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدُ اللَّهِ مَلْأَى لَا تَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُذْ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَدِهِ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الْمِيزَانُ يَخْفِضُ وَيرْفَع» -[34]- وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ مَلْآنُ سَحَّاءُ لَا يُغِيضُهَا شَيْءٌ اللَّيْل والنهار» سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات دن کی سخاوت اسے کم نہیں کرتی، تم نے دیکھا کہ اس نے زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت سے جو خرچ کیا اس نے اس کے ہاتھ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی، اور اس کا عرش پانی پر ہے، اور میزان اس کے ہاتھ میں ہے وہ اسے پست کرتا اور بلند کرتا ہے۔ ‘‘ متفق علیہ، رواہ البخاری (4684) و مسلم۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: ’’اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ ‘‘ ابن نمیر نے کہا: ’’دونوں ہاتھ بھرے ہوئے ہیں۔ رات اور دن کی سخاوت اس میں کوئی کمی نہیں کرتی۔ ‘‘
اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدُ اللَّهِ مَلْأَى لَا تَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُذْ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَدِهِ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الْمِيزَانُ يَخْفِضُ وَيرْفَع» -[34]- وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ مَلْآنُ سَحَّاءُ لَا يُغِيضُهَا شَيْءٌ اللَّيْل والنهار» . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، یعنی اس کا خزانہ بھرا ہوا ہے خرچ کرنے سے کسی قسم کی کمی نہیں ہوتی۔ رات دن برابر خرچ کرتا اور دیتا رہتا ہے، تم نے دیکھا ہے اس نے جس وقت سے زمین آسمان کو پیدا کیا ہے، کس قدر خرچ کیا ہے مگر اس کے ہاتھ (خزانہ) میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے، اور اس کا عرش (تخت) پانی پر تھا اور اسی کے ہاتھ میں روزی کی ترازو ہے وہی نیچا اور اونچا کرتا رہتا ہے۔“ بخاری مسلم میں اسی طرح ہے اور مسلم کی روایت میں اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ اور ابن نمیر راوی نے جو امام مسلم کے استاد ہیں یہ لفظ نقل کیا ہے۔ ”اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے وہ ہمیشہ خرچ کرنے والا ہے اور دینے والا ہے، رات دن میں خرچ کرنے سے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔“ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 92]
فقہ الحدیث:
➊ ساری کائنات اور ہر چیز کا خالق صرف ایک اللہ ہے۔ اگر وہ اپنی مخلوقات کو اپنے پیدا کردہ خزانوں میں سے بے انتہا بخش دے تب بھی اس کے خزانوں میں کمی نہیں ہوتی۔
➋ اللہ تعالیٰ سات آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے۔
➌ اللہ کا ہاتھ اس کی صفت ہے جس پر ایمان لانا ضروری ہے اور اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ منکرین صفات کا ہاتھ سے قدرت مراد لینا باطل ہے۔
1۔
امام بخاری ؒ نے اس طرح کا ایک عنوان کتاب التوحید میں بھی قائم کیا ہے۔
وہاں مقصود عرش باری تعالیٰ کا اثبات اور اللہ تعالیٰ کے اس پر مستوی ہونے کو ثابت کرنا ہے، نیز ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عرش ایک مخلوق اور اس کا پیدا کیا ہوا ہے۔
اس مقام پر امام بخاری ؒ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ زمین وآسمان کی تخلیق کے وقت بھی اس کا عرش پانی پر تھا۔
یہ پانی کہاں تھا؟ کیا یہ پانی وہی معروف ہے جسے ہم استعمال کرتے ہیں یا کوئی اور مائع قسم کا مادہ تھا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جوہماری سمجھ سے بالاترہیں اور انھیں سمجھنے کے ہم مکلف بھی نہیں ہیں، البتہ یہ بات یقینی ہے کہ زمین وآسمان کی تخلیق سے پہلے اللہ کا عرش پانی پر تھا۔
2۔
عرش اس تخت کو کہتے ہیں جس پر بادشاہ بیٹھتا ہے، نیز عربی زبان میں گھر کی چھت کے لیے بھی عرش استعمال ہوا ہے، اس اعتبار سے اللہ کا عرش اپنے اندر وہ معانی رکھتا ہے: الف۔
وہ اللہ ذوالجلال کامحل استواء ہے جس کی کیفیت ہم نہیں جانتے۔
ب۔
وہ تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے۔
اس کی مکمل بحث کتاب التوحید میں ذکر ہوگی۔
باذن اللہ تعالیٰ۔
خرچ ہوگا تو آمدنی کا بھی فکر کرنا پڑے گا۔
پس بندہ جس کام میں ہاتھ ڈالے گا اللہ برکت کرے گا۔
اللہ کے دینے کا یہی مطلب ہے۔
(1)
اللہ تعالیٰ ابن آدم پر خرچ کرتا ہے۔
اس کا مصداق درج ذیل آیت کریمہ ہے: ’’اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو تو وہ اس کی جگہ تمہیں اور دیتا ہے۔
‘‘ (سبا: 34/39)
یہ بات تجربے میں آ چکی ہے کہ اس کی راہ میں خرچ کرنے سے وہ خرچ کیے ہوئے مال جتنا یا اس سے زیادہ دے دیتا ہے۔
وہ کس ذریعے سے دیتا ہے اس کی کوئی مادی توجیہ پیش نہیں کی جا سکتی، تاہم ہمارا تجربہ اور وجدان دونوں اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔
(2)
حدیث قدسی ہے: ’’اے ابن آدم! تو خرچ کر۔
‘‘ اس میں ہر قسم کے اخراجات آ جاتے ہیں، خواہ بیوی بچوں پر ہوں یا فی سبیل اللہ خرچ کیا جائے۔
اس سے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے مجھے ارشاد فرمایا: (اے میرے بندے!) تو خیر کے راستہ میں اپنا مال خرچ کر، تو میں تجھ پر خرچ کروں گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کا نام دھوکہ و چال بازی رکھا ہے۔“ [صحيفه همام بن منبه/متفرق/حدیث: 40]
اول: حديث قدسى اور وه یہ ہے، «أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ»
ثاني: حديث نبوى صلى الله عليه وسلم، اور وه یہ ہے «وَسَمَّى الْحَرْبَ خُدْعَةً.»
یہ بات بھی یاد رہے کہ مذکورہ حدیث اصل میں دو الگ الگ حدیثیں ہیں۔ جو ایک ہی سند سے روایت کی گئی ہیں۔ اور جہاں تک جزء ثانی کا تعلق ہے، تو وہ مکرر ہے، یعنی وہ حدیث نمبر 30 میں گزر چکی ہے اور اس جگہ اس کی تخریج بھی موجود ہے۔
حدیث قدسی میں وارد لفظ «أَنْفِقْ» کی عمومیت سے یہ بات منکشف ہوتی ہے کہ انفاق مال کی ترغیب بغیر کسی تقیید و تعیین کے ہے۔ یعنی مال خرچ کرنے میں کسی قسم کی مقدار، پیمانہ اور حد بندی بیان نہیں کی گئی، کیونکہ جو مال الله کی راہ میں خرچ کیا جاتا ہے، وہ خیر و بھلائی کی تمام اقسام کو شامل ہوتا ہے۔ [فتح الباري: 499/9]
علامہ نووی رحمة الله علیه رقم طراز ہیں: "حدیث قدسی "أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ" عین مشابہہ و مترادف ہے، اس فرمان کے جو الله عزوجل نے سورة سباء آیت نمبر 39 میں فرمایا ہے: «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ» "اور (اس کی راہ میں) تم لوگ جتنا مال خرچ کرتے ہو، وہ تمہیں اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا۔ "
پس اس آیت مبارکہ اور حدیث قدسیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دونوں خیر و بھلائی کے راستے پر مال خرچ کرنے کی ترغیب دلا رہی ہیں۔ علاوہ ازیں اس فضل کی بشارت بھی دے رہی ہیں کہ الله تعالیٰ اپنے فضل سے تمہارے خرچ کیے ہوئے مال کو واپس لوٹائے گا۔ " دیکھئے: [شرح مسلم، للنووي: 32/3]
«أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ:» یعنی ابن آدم جب الله کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتا ہے، تو بادیٔ النظر (عموماً دیکھنے) میں محسوس ہوتا ہے کہ مال میں قلت و کمی واقع ہو رہی ہے۔ جب کہ ایسا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مال الله کے یہاں محفوظ ہو جاتا ہے، اور اجر و ثواب میں بڑھتا رہتا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا: «وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِندَ اللَّـهِ ۖ وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ» [الروم: 39]
"اور جو تم زکٰوة دیتے ہو (اور اس سے الله کا چہرہ طلب کرتے ہو تو (وہ موجب برکت ہے اور) ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو کئی گنا) بڑھانے والے ہیں۔ "
انہیں الله تعالیٰ دوگنا چوگنا ثواب عطا فرمائے گا۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے: «مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ , وَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهِ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ اَوْ اَعْظَمَ.» [صحيح بخاري، كتاب الزكاة، رقم: 1410 - صحيح مسلم، كتاب الزكاة، رقم: 63، 64 / 1014]
"جو شخص حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرے اور الله تعالیٰ صرف حلال کمائی کے صدقہ کو قبول کرتا ہے تو الله تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے پھر صدقہ کرنے والے کے فائدے کے لیے اس میں زیادتی کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی اپنے جانور کے بچے کو کھلا پلا کر بڑھاتا ہے تاآنکہ اس کا صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے يا اس سے بهى بڑا۔ "
اس کے برعکس جب الله تبارک و تعالیٰ اپنی مخلوقات پر خرچ فرماتا ہے، تو اس کے خزانوں میں کسی قسم کی کوئی قلت، نقص اور کمی نہ حقیقت میں واقع ہوتی ہے اور نہ ہی بادیٔ النظر میں۔ جیسا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: «يَدُ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ» [صحيح بخاري، كتاب التوحيد، رقم: 7411]
"الله تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، وہ کبھی (بھی) خالی نہیں ہوتا۔ "
مزید فرمان الہٰی بھی ہے: «مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ ۖ وَمَا عِندَ اللَّـهِ بَاقٍ ۗ» [النحل: 96]
"جو کچھ تمہارے پاس وہ (ایک نہ ایک دن) ختم ہو جائے گا۔ اور جو الله کے پاس ہے وہ (ہمیشہ باقی رہے گا) محفوظ رہے گا۔ "
اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہیں لیکن اس کی ذات کی طرح اس کے ہاتھوں کی کیفیت جاننا ممکن نہیں ہاں اتنا ماننا ضروری ہے کہ وہ اس کی شان کے مناسب و لائق ہیں مخلوقات جیسے نہیں ہیں، اس لیے تاویل یا تشبیہ کی ضرورت نہیں ہے۔
(2)
جائز اور صحیح مواقع پر خرچ کرنا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے کا باعث بنتا ہے جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ﴾ تم جو بھی خرچ کرتےہو اللہ تعالیٰ اس کا بدل عنایت فرماتا ہے اس کو حدیث قدسی میں یوں بیان کیا ہے: ’’اے آدم زادے خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔
‘‘ اس لیے وجوہ خیر اور نیک کاموں میں خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔
رزق کی تنگی اور وسعت و فراخی یا عزت، ذلت عروج و پستی کا مالک وہی ہے یہ ان کے اپنے بس میں نہیں ہے۔
اس کی کیفیت میں کرید کرنا بدعت ہے۔
1۔
اس روایت میں اللہ تعالیٰ کے عرش کا بیان ہے کہ وہ پانی پر تھا۔
قرآن کریم میں ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت بھی اس کا عرش پانی پر تھا۔
یہ پانی کہاں تھا؟ کیا یہ پانی وہی معروف ہے یا کوئی اور مائع قسم کا مادہ تھا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ہماری سمجھ سے بالا تر ہیں اور انھیں سمجھنے کے ہم مکلف بھی نہیں البتہ یہ بات یقینی ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا۔
عرش اس تخت کو کہتے ہیں جس پر بادشاہ فروکش ہوتا ہے جیسا کہ ملکہ سبا کے متعلق قرآن میں ہے۔
’’اس کا تخت عظیم الشان تھا۔
‘‘ (النمل: 27۔
23)
2۔
عربی زبان میں گھر کی چھت کے لیے بھی لفظ عرش استعمال ہوا ہے قرآن مجید میں ہے۔
(وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا)
’’وہ بستی اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی۔
‘‘ (البقرة: 259)
گویا عربی لغت میں عرش کے معنی ہیں۔
بادشاہ کا تخت جس پر وہ فروکش ہوتا ہے۔
گھر کی چھت اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے عرش کے دو مفہوم ہیں۔
وہ اللہ ذوالجلال کا محل استوا ہے جس کی کیفیت ہم نہیں جانتے۔
وہ تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے بہر حال اللہ تعالیٰ کا عرش بھی دوسری مخلوقات کی طرح اس کا پیدا کیا ہوا ہے اس کے پائے ہیں اسے خاص فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں قیامت کے دن آٹھ فرشتے اسے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔
عرش سب آسمانوں کے اوپر ہے اور ساتوں آسمانوں کو قبے کی طرح گھیرے ہوئے ہے۔
اللہ تعالیٰ اس کا محتاج نہیں بلکہ خود عرش اپنے پروردگار کا محتاج ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور ہر مخلوق اپنے خالق کی محتاج ہے اور اس سے کسی صورت میں بے نیاز نہیں ہو سکتی۔
ہندوؤں کی قدیم کتابوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ پہلے دنیا میں نرا پانی اورنارائن یعنی پروردگار کا تخت پانی پر تھا۔
پانی میں سے ایک بخار نکلا اس سے ہوا پیدا ہوئی۔
ہواؤں کے آپس میں لڑنے سے آگ پیدا ہوئی، پانی کی تلچھت اور درد سے زمین کا مادہ بنا، واللہ أعلم۔
(وحیدی)
1۔
یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کے متعلق بکواس کی تھی کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ بندھے ہوئے تو ان کے اپنے ہاتھ ہیں اور اس کی بکواس کی وجہ سے ان پر پھٹکار پڑ گئی بلکہ اللہ تعالیٰ کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔
(المآئدة: 64)
مذکورہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے۔
اس حدیث اور ذکر کی گئی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی صفت ید کا اثبات ہے جس کی تاویل کرنا درست نہیں، چنانچہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں (يَدُ اللَّهِ)
کے بجائے (يَمِينُ الله)
کے الفاظ ہیں۔
(صحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7419)
2۔
ان الفاظ پر حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اس لفظ سے ان لوگوں کا خوب تعاقب ہو سکتا ہے جو صفت ید کی تفسیر"نعمت" سے کرتے ہیں اور وہ لوگ تو بہت دور کی کوڑی لائے ہیں جو اس کی تفسیر "خزائن" سے کرتے ہیں۔
ان کی دلیل یہ ہے کہ خزائن میں تصرف ہاتھ کرتا ہے، اس لیے صفت ید کا اطلاق خزائن پر کیا گیا ہے۔
(فتح الباري: 484/13)
3۔
لیکن ان کی یہ دلیل درست نہیں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اشعری ہونے کے باوجود صفت ید کے متعلق تاویل کرنے والوں کی تردید کی ہے جیسا کہ مذکورہ عبادت سے معلوم ہوتا ہے۔
(عمدة القاري: 608/16)
اللہ کے ہاتھ بھر پور ہیں، اس سے حقیقی ہاتھ مراد ہیں۔
اس کی تفسیر قدرت سے کرنا صحیح نہیں جیسا کہ قدریہ کا موقف ہے کیونکہ اس حدیث میں دوسرے ہاتھ کا بھی ذکر ہے کہ اس میں ترازو ہے۔
ہاتھ کو قدرت کے معنی تسلیم کرنے کی صورت میں دو قدرتوں کا اثبات لازم آتا ہے، لہذا "ید" کے معنی حقیقی ہاتھ ہی ہیں۔
اسی طرح اس کے معنی نعمت کرنا بھی صحیح نہیں۔
چونکہ تمام نعمتیں مخلوق ہیں اور اس سے یہ لازم آتا ہے کہ ایک مخلوق نے اسی طرح کی مخلوق کو پیدا کیا ہے اور جس نے اس کے معنی خزائن کیے ہیں وہ تو بہت دور جا بھٹکا ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوتا ہے، (کبھی خالی نہیں ہوتا) بخشش و عطا کرتا رہتا ہے، رات و دن لٹانے اور اس کے دیتے رہنے سے بھی کمی نہیں ہوتی، آپ نے فرمایا: ” کیا تم لوگوں نے دیکھا (سوچا؟) جب سے اللہ نے آسمان پیدا کیے ہیں کتنا خرچ کر چکا ہے؟ اتنا کچھ خرچ کر چکنے کے باوجود اللہ کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کچھ بھی کمی نہیں ہوئی۔ اس کا عرش پانی پر ہے، اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے وہ اسے بلند کرتا اور جھکاتا ہے (جسے چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کم)۔۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3045]
وضاحت: 1؎ ’’اور یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، انہی کے ہاتھ بندے ہوئے ہیں اور ان کے اس قول کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی، بلکہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے‘‘ (المائدہ: 64)
2؎:
یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے جن چیزوں کا ذکر کیا ہے اس کی نہ تو تاویل کی جائے گی اور نہ ہی کوئی تفسیر، یعنی یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس کا ہاتھ ایسا ایسا ہے بلکہ جیسی اس کی ذات ہے ایسے ہی اس کا ہاتھ بھی ہے، اس کی کیفیت بیان کئے بغیر اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات دن خرچ کرتا رہتا ہے پھر بھی اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے، اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے، وہ اسے پست و بالا کرتا ہے “، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ذرا غور کرو کہ آسمان و زمین کی تخلیق (پیدائش) سے لے کر اس نے اب تک کتنا خرچ کیا ہو گا؟ لیکن جو کچھ اس کے دونوں ہاتھ میں ہے اس میں سے کچھ بھی نہ گھٹا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 197]
اس حدیث میں اللہ کے لیے ہاتھ اور ہاتھوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ بھی ان صفات میں سے ہے جن پر بلا تشبیہ اور بلا تاویل ایمان لانا چاہیے، قرآن مجید میں اللہ کے لیے دو ہاتھوں کا ذکر متعدد مقامات پر ہے، مثلا: (دیکھیے سورہ ص: 75)
(2)
اس حدیث میں اللہ کے ایک ہاتھ کو دایاں کہا گیا ہے، عربی میں لفظ یمین ہے جس میں یمن، یعنی برکت کا مفہوم پایا جاتا ہے۔
حدیث میں ہے: (كِلْتَا يَدَيْهِ يَمِيْنٌ) (صحيح مسلم، الامارة، باب فضيلة الامير العادل، حديث: 1827)
’’اللہ کے دونوں ہاتھ یمین ہیں‘‘ یعنی ایک کو یمین (دایاں، بابرکت)
کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے ہاتھ میں برکت نہیں۔
اس کے دونوں ہاتھ ہی بابرکت ہیں۔
(3)
ترازو کو اونچا کرنے اور جھکانے کا مطلب ہے کسی کو کوئی نعمت زیادہ دینا، اور کسی کو (حکمت کی بنا پر)
کم دینا یا کبھی زیادہ دینا اور کبھی کم دینا یا کبھی کسی کو کوئی نعمت زیادہ دینا اور دوسرے کوکوئی اور نعمت زیادہ دینا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَإِن مِن شَىءٍ إِلّا عِندَنا خَزائِنُهُ وَما نُنَزِّلُهُ إِلّا بِقَدَرٍ مَعلومٍ﴾ (الحجر: 21)
’’ہمارے پاس ہر چیز کے خزانے موجود ہیں (لیکن)
ہم اسے ایک مقرر اندازے کے مطابق نازل کرتے ہیں۔‘‘
(4)
اللہ کے خزانے ختم ہونا تو درکنار ان میں کمی بھی نہیں ہوتی،۔
کیونکہ اسے کسی بھی چیز کے حصول کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہونا پڑتا، نہ کوئی محنت کرنا پڑتی ہے۔
بلکہ اس کا ارادہ ہی ہر مخلوق کو ہر قسم کی نعمتیں عطا فرمانے کے لیے کافی ہے۔
ارشاد ہے: ﴿إِنَّما أَمرُهُ إِذا أَرادَ شَيـًٔا أَن يَقولَ لَهُ كُن فَيَكونُ﴾ (یس: 82)
’’وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، تو اسے اتنا فرما دینا کافی ہو جاتا ہے کہ ہو جا، وہ اسی وقت ہو جاتی ہے۔‘‘
(5)
جب اللہ کے خزانے بے شمار ہیں، بھرپور ہیں، ان میں کمی بھی نہیں ہوتی، تو انسان کو چاہیے کہ اپنی ہر حاجت اسی کے سامنے پیش کرے اور سب کچھ اسی سے مانگے۔
کیونکہ جن و انس کے سوا ہر مخلوق اسی سے سوال کرتی ہے اور وہ سب کو دیتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَسـَٔلُهُ مَن فِى السَّمـوتِ وَالأَرضِ كُلَّ يَومٍ هُوَ فى شَأنٍ﴾ (الرحمن: 29)
’’سب آسمان و زمین والے اسی سے مانگتے ہیں، ہر روز وہ ایک شان میں ہے۔‘‘
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے اور شب و روز کا مسلسل خرچ کرنا بھی اس میں کمی نہیں کرتا۔ ذرا دیکھو! جب سے اس نے زمین و آسمان کی تخلیق کی ہے اس نے کس قدر خرچ کیا ہے؟ پھر بھی جو اس کے سیدھے ہاتھ میں ہے اس سے کچھ کم نہیں ہوا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں (اشیاء کی کمی بیشی) کی قدرت ہے۔ وہی (اشیاء کو) گراں اور ارزاں کرتا ہے۔“ [صحيفه همام بن منبه/متفرق/حدیث: 28]
اس کا عرش پانی پر تھا:
حافظ ابن حجر رحمة الله علیه فرماتے ہیں: "اس مقام سے ذکرِ عرش کا تعلق یہ ہے کہ ابتدائے حدیث میں ذکر ہوا۔ «خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضَ» (الله تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کی) تو کہیں سامع کے ذہن میں یہ وسوسہ پیدا نہ ہو کہ زمین و آسمان کی تخلیق سے قبل کچھ تھا ہی نہیں، بلکہ تخلیق کا ذکر کرنے کے فوراً بعد فرمایا کہ زمین و آسمان کی پیدائش سے قبل عرش باری تعالیٰ پانی پر تھا۔ جیسا کہ عمران بن حصن رضی الله عنہ سے مروی حدیث ہے «وَكَانَ عَرشُهُ عَلَي الْمَاءِ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضَ» عرش باری تعالیٰ پانی پر تھا، اس کے بعد الله تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ " [فتح الباري: 395/13]
اس بات کی تصدیق قرآن حکیم میں بھی موجود ہے: «وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» [هود: 7]
"وہی الله ہے، جس نے چھ دن میں زمین و آسمان کی تخلیق کی، اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ "
سیدنا عبدالله بن عمرو رضی الله عنہ فرماتے ہیں، میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «كَتَبَ اللَّهُ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، قَالَ: وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ .» [صحيح مسلم، كتاب القدر، رقم 6748]
"الله تعالیٰ نے ساری مخلوقات کی تقدیر زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل لکھی۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اور (اس وقت) الله کا عرش پانی پر تھا۔ "
مذکورہ دلائل سے معلوم ہوا کہ زمین و آسمان کی تخلیق سے قبل عرش باری تعالیٰ پانی پر قائم تھا، لیکن قرآن و سنت کے بے شمار دلائل سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق کے بعد سے عرش ساتوں آسمان کے اوپر قائم ہے۔
اس کے دوسرے ہاتھ میں اشیاء کی گرانی و ارزانی کی قدرت ہے:
اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ الله تعالیٰ اپنے بندوں پر مسلسل خرچ کرکے ان پر احسانات کی بارش کرتا رہتا ہے، لیکن بعض اوقات اپنے ہاتھ کو روک لیتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے: «وَاللّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ» [البقرة: 245]
"اور الله تعالیٰ رزق میں کمی بھی کرتا ہے اور (چاہے تو) فراوانی بھی کرتا ہے۔ "
اس کے علاوہ بخاری وغیرہ میں موجود مختلف روایات میں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ترازو الله کے ہاتھ میں ہے۔ «والله اعلم بالصواب»
«يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ»
وہی الله بلند کرتا ہے اور پست کرتا ہے۔
یعنی عزت اور ذلت، بلند کرنا اور ذلیل کرنا الله تعالیٰ کے اختیار اور قدرت میں ہے۔
الله تعالیٰ کا دوسرا ہاتھ:
الله تعالیٰ کی ذات بابرکت کے لیے دو ہاتھوں کے ثبوت کا ذکر قرآن مجید میں بصراحت موجود ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «بَلْ یَدَاہُ مَبْسُوْطَتٰنِ» [المائده: 24]
بلکہ الله تعالیٰ کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں۔
اور جہاں تک لفظ "یَدْ" کا معنی قدرت کے مترادف کرنا ہے، تو یہ قرآن و سنت کی تعلیم کے متضاد ہے۔ الله تعالیٰ کا فرمان ہے۔ «لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ» [سورة ص: 75]
میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔
اس آیت میں دراصل "یَدْ" کا تثنیہ مستعمل ہے، تو یہاں پر اگر یَدْ کا معنی "قدرت" کیا جائے، تو مفہوم نکلے گا۔ میں نے اپنی دو قدرتوں سے تخلیق کیا۔ اور یہ مفہوم آیت کے سراسر منافی ہے۔ اس طرح ارشاد باری: «بَلْ یَدَاہُ مَبْسُوْطَتٰنِ» [المائده: 24]
"بلکہ ذات باری کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں۔ "
یہاں پر بھی "یَدْ" کی تثنیہ مستعمل ہے اور قدرت کے معنی میں استعمال کرنا نامناسب ہے۔
بنابریں اگر "یَدْ" کا معنی قدرت لیا جائے، تو فرمان الٰہی «وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ» [الزمر: 67]
"پورا کرہ ارض بروز قیامت الله کی مٹھی میں ہوگا۔ "
میں لفظ "قَبْضَتُهُ" مستعمل ہے، تو اس کا یہاں پر کون سا معنی مراد لیا جائے گا؟ اسی طرح "صحیح مسلم" میں عبدالله بن عمر رضی الله عنہ سے مروی ایک حدیث ہے، جس میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ .» [صحيح مسلم، كتاب القدر، رقم: 6750]
"بلاشبہ تمام انسانوں کے دل رحمٰن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک ہی دل کی طرح ثابت ہیں۔ "
اس حدیث میں ذات باری تعالیٰ کے لیے انگلیوں کا ذکر ہوا ہے۔ تو اگر "یَدْ" کا معنی قدرت ہے، تو پھر انگلیوں کی تاویل کیسے کی جائے گی؟
ہم الله تعالیٰ کی ذات کے لیے ہاتھ، انگلی، اور ہتھیلی تسلیم کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں قرآن و سنت میں الله تعالیٰ کی ذات بابرکت کے لیے ثابت ہیں۔ ہم ان چیزوں کو بلا تاویل، تشبیہ، تکییف اور تعطیل کے تسلیم کرتے ہیں۔
اور ہم ان تمام چیزوں کو الله تعالیٰ کی ذات بابرکت کے لیے اسی طرح تسلیم کرتے ہیں، جس طرح اس کی ذات کے شایان شان ہے۔
جب ہم تلاوت قرآن کرتے ہیں، تو ہمیں ذات باری تعالیٰ کے لیے لفظ یَدْ کا ثبوت مل جاتا ہے، لیکن یہ لفظ کہیں مفرد، کہیں تثنیہ اور کہیں جمع استعمال ہوا ہے: مفرد کی مثال: «تَبَارَكَ الَّذِىْ بِيَدِهِ الْمُلْك» (ملك: 1)
"بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے۔ "
تثنیہ کی مثال: «بَلْ یَدَاہُ مَبْسُوْطَتٰنِ» (مائدہ: 24)
"بلکہ الله کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں۔ "
جمع کی مثال: «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ» (یٰس: 71)
"کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے چوپائے پیدا کیے، جن کے یہ مالک ہیں۔ "
ان تمام صورتوں میں تطبیق اس طرح ہوگی کہ جو سب سے پہلے ہے (یَدْ) وہ مفرد مضاف ہے، اور وہ جمع کا معنی دے رہا ہے، لہذا وہ اس بات کے منافی نہیں کہ الله کے لیے دو ہاتھ ثابت نہ ہوں۔
رہی یہ بات کہ الله کی ذات کے لیے "اَیْدِیْنَا" "ہمارے ہاتھ" کا صیغہ جمع استعمال ہوا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جمع تعظیم کے لیے ہے نہ کہ حقیقی جمع مراد ہے، جس کا اطلاق تین یا تین سے زائد پر ہوتا ہے، اور یہ بھی منقول ہے کہ جمع کا اطلاق کم سے کم دو پر بھی ہوتا ہے، تو اس صورت میں اشکال لفظ تثنیہ پر ہو ہی نہیں سکتا۔
لہذا قرآن و حدیث سے ذات باری کے لیے دو ہاتھوں کا ثبوت ہے، اور ہم الله کے دو ہاتھوں یا کسی اور صفت کو بلا تمثیل و تعطیل (بغیر کوئی مثال بیان کیے اور بغیر الله کو صفات سے عاری جانے) اس کی شان کے مطابق تسلیم کرتے ہیں۔
الرد علی منکر الید الیمنی الاخری:
بعض جہال نے صحیفہ کی اس حدیث پر عنوان قائم کیا ہے: "الله کا دایاں اور بایاں ہاتھ" لیکن یہ بات سراسر غلط اور جہالت پر مبنی ہے۔ الله تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں، ان کی کیفیت کیا ہے؟ نہیں معلوم! لیکن ہیں دونوں دائیں کما یلیق بجلاله وشانه۔ دلیل کے طور پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد گرامی قدر ملاحظہ ہو: «كِلْتَا يَدى الله يَمِيْنٌ» [مجمع الزوائد: 344/10]
"الله تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ "
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جو انسان خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر خرچ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے بندوں پر خرچ کرتے رہتے ہیں، یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔
اللہ تعالی انتہائی غنی ہے، رزق و روزی کے لامتناہی خزانوں کا مالک ہے۔ سابقہ صد ہا صدیوں میں اس نے وسیع وعریض کائنات میں بسنے والی بے شمار مخلوقات، بالخصوص بنو آدم پر جتنا کچھ خرچ کیا، اس کا اعداد و شمار ناممکن ہے، لیکن اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔
زمین و آسمان کی تخلیق سے قبل اللہ تعالی کا عرش پانی پر تھا۔
ترازو کو کسی کے حق میں جھکانے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اس کو وسعت کے ساتھ رزق عطا کرتا ہے اور اس کے لیے روزیوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ جبکہ ترازو کو جھکانے کا معنی یہ ہے کہ اپنی حکمت و دانائی کی روشنی میں کسی کا رزق تنگ کر دیتا ہے۔
اس عظیم حدیث کا یہ تقاضا ہے کہ ہم ایسے عظیم رب کے بندے ہونے پر فخر محسوس کریں، ہر چیز کا مطالبہ اسی سے کریں اور جائز اسباب استعمال کر کے اس کے پاس روزیاں تلاش کریں۔