حدیث نمبر: 811
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظّهْر وَفِي مُؤخر الصُّفُوف رجل فَأَسَاءَ الصَّلَاةَ فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فُلَانُ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ؟ أَلَا تَرَى كَيْفَ تُصَلِّي؟ إِنَّكُمْ تُرَوْنَ أَنَّهُ يَخْفَى عَلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا تَصْنَعُونَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَى من بَين يَدي» رَوَاهُ أَحْمد
الشیخ عبدالستار الحماد

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی، پچھلی صفوں میں کسی آدمی نے نماز میں خرابی کی، جب سلام پھیرا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلایا: ’’فلاں شخص! کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم کیسی نماز پڑھتے ہو، کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جو کرتے ہو وہ مجھ پر مخفی رہتا ہے، اللہ کی قسم! میں جس طرح اپنے آگے دیکھتا ہوں ویسے ہی اپنے پیچھے دیکھتا ہوں۔ ‘‘ صحیح، رواہ احمد۔

حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الصلاة / حدیث: 811
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيحٌ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (449/2 ح 9795) ¤٭ ابن إسحاق صرح بالسماع عند ابن خزيمة (474) و للحديث شواھد عند البخاري وغيره انظر (ح 869)»