مشكوة المصابيح
كتاب الصلاة— كتاب الصلاة
(الخَسْفُ أَهْوَنُ مِنَ المُرُورِ أَمَامَ المُصَلِّي) باب: زمین میں دھنس جانا نمازی کے آگے گزرنے سے ہلکا ہے
حدیث نمبر: 788
وَعَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يُخْسَفَ بِهِ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: أَهْوَنَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مَالِكٌالشیخ عبدالستار الحماد
کعب احبار ؒ بیان کرتے ہیں، اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو پتہ چل جاتا کہ اسے اس پر کتنا گناہ ملے گا تو وہ سمجھتا کہ اسے دھنسا دیا جائے تو یہ اس کے لیے، اس کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہوتا۔ اور ایک روایت میں ہے: اس پر آسان ہوتا۔ صحیح، رواہ مالک۔