مشكوة المصابيح
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
(اتَّبِعْ وَسْوَسَةَ الصَّلَاةِ) باب: نماز میں وسوسے کی پروانہ کرو
حدیث نمبر: 78
وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: «إِنِّي أهم فِي صَلَاتي فيكثر ذَلِك عَليّ فَقَالَ الْقَاسِم بن مُحَمَّد امْضِ فِي صَلَاتك فَإِنَّهُ لن يذهب عَنْكَ حَتَّى تَنْصَرِفَ وَأَنْتَ تَقُولُ مَا أَتْمَمْتُ صَلَاتي» . رَوَاهُ مَالكالشیخ عبدالستار الحماد
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے ان سے مسئلہ دریافت کیا تو کہا: نماز میں میرا خیال کسی دوسری طرف چلا جاتا ہے، اور اکثر ایسا ہوتا ہے۔ تو انہوں نے کہا: اپنی نماز جاری رکھو، کیونکہ تمہارے نماز سے فارغ ہونے تک یہ آتے رہیں گے، اور (نماز کے اختتام پر) تم کہو گے: میں نے اپنی نماز مکمل نہیں کی۔ اس حدیث کو امام مالک نے روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´نماز میں وسوسے کی پروانہ کرو`
«. . . وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: «إِنِّي أهم فِي صَلَاتي فيكثر ذَلِك عَليّ فَقَالَ الْقَاسِم بن مُحَمَّد امْضِ فِي صَلَاتك فَإِنَّهُ لن يذهب عَنْكَ حَتَّى تَنْصَرِفَ وَأَنْتَ تَقُولُ مَا أَتْمَمْتُ صَلَاتي» . رَوَاهُ مَالك . . .»
”. . . قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے دریافت کیا کہ مجھے نماز میں وہم ہوتا ہے اور یہ مجھ پر بہت شاق گزرتا ہے تو قاسم نے اسے جواب دیا کہ تو اپنی نماز برابر پڑھتا جا اس وسوسے کا خیال کر کے نماز کو مت چھوڑو کیونکہ یہ وسوسہ ہرگز تم سے دور نہیں ہو گا یہاں تک کہ تم نماز سے فارغ ہو گے اور کہو گے کہ میں نے پوری نماز نہیں پڑھی ہے۔ اس کو امام مالک نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 78]
«. . . وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: «إِنِّي أهم فِي صَلَاتي فيكثر ذَلِك عَليّ فَقَالَ الْقَاسِم بن مُحَمَّد امْضِ فِي صَلَاتك فَإِنَّهُ لن يذهب عَنْكَ حَتَّى تَنْصَرِفَ وَأَنْتَ تَقُولُ مَا أَتْمَمْتُ صَلَاتي» . رَوَاهُ مَالك . . .»
”. . . قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے دریافت کیا کہ مجھے نماز میں وہم ہوتا ہے اور یہ مجھ پر بہت شاق گزرتا ہے تو قاسم نے اسے جواب دیا کہ تو اپنی نماز برابر پڑھتا جا اس وسوسے کا خیال کر کے نماز کو مت چھوڑو کیونکہ یہ وسوسہ ہرگز تم سے دور نہیں ہو گا یہاں تک کہ تم نماز سے فارغ ہو گے اور کہو گے کہ میں نے پوری نماز نہیں پڑھی ہے۔ اس کو امام مالک نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 78]
تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اسے امام مالک نے سند کے بغیر روایت کیا ہے۔ یہ روایت بلاغات یعنی منقطع روایتوں میں سے ہے۔
اس روایت کی سند اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اسے امام مالک نے سند کے بغیر روایت کیا ہے۔ یہ روایت بلاغات یعنی منقطع روایتوں میں سے ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 78 سے ماخوذ ہے۔