مشكوة المصابيح
كتاب الصلاة— كتاب الصلاة
(زَجْرُ عُمَرَ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنْهُ لِمَنْ يَرْفَعُ ٱلصَّوْتَ فِي مَسْجِدِ ٱلنَّبِيِّ صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) باب: مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں شور کرنے والے کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ڈانٹنا
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِد فحصبني رجل فَنَظَرت فَإِذا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَذَيْنِ فَجِئْتُهُ بِهِمَا فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتُمَا أَوْ مِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا قَالَا: مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ. قَالَ: لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَأَوْجَعْتُكُمَا تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ البُخَارِيّسائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں مسجد میں سویا ہوا تھا تو کسی آدمی نے مجھے کنکری ماری، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے فرمایا: جاؤ اور ان دونوں آدمیوں کو میرے پاس لاؤ، میں انہیں ان کے پاس لے آیا، تو انہوں نے فرمایا: تم کس قبیلے سے ہو اور کہاں سے ہو؟ انہوں نے کہا: اہل طائف سے، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم اہل مدینہ سے ہوتے تو میں تمہیں ضرور سزا دیتا، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کرتے ہو۔ رواہ البخاری۔