مشكوة المصابيح
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
(وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشْرِ أُمُورٍ) باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس باتوں کی وصیت
حدیث نمبر: 62
وَعَن حُذَيْفَة قَالَ: إِنَّمَا كَانَ النِّفَاق عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَإِنَّمَا هُوَ الْكفْر بعد الايمان. رَوَاهُ البُخَارِيّالشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نفاق تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں تھا، جبکہ اب تو کفر ہے یا ایمان ہے۔ اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس باتوں کی وصیت`
«. . . وَعَن حُذَيْفَة قَالَ: إِنَّمَا كَانَ النِّفَاق عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَإِنَّمَا هُوَ الْكفْر بعد الايمان. رَوَاهُ البُخَارِيّ . . .»
”. . . سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد نبوت میں نفاق موجود تھا لیکن (نبوت کے بعد) آج کفر یا ایمان ہے۔ (بخاری) . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 62]
«. . . وَعَن حُذَيْفَة قَالَ: إِنَّمَا كَانَ النِّفَاق عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَإِنَّمَا هُوَ الْكفْر بعد الايمان. رَوَاهُ البُخَارِيّ . . .»
”. . . سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد نبوت میں نفاق موجود تھا لیکن (نبوت کے بعد) آج کفر یا ایمان ہے۔ (بخاری) . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 62]
تخریج:
[صحيح بخاري 7114]
فقہ الحدیث:
➊ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب اسلام کو چاروں طرف سے خطرہ تھا اس وقت منافقین کی پکڑ دھکڑ نہیں کی گئی اور نہ انہیں قتل کیا گیا تاکہ لوگ یہ نہ کہتے پھریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں، اب یہ رخصت اور نرمی باقی نہیں رہی کیونکہ اسلام غالب ہو گیا۔ اب تو کفر یا اسلام ہی باقی رہ گیا ہے۔
➋ نفاق گناہ کبیرہ ہے۔ خليفة المسلمین اگر مناسب سمجھے تو منافقین کو سزا دے سکتا ہے۔
[صحيح بخاري 7114]
فقہ الحدیث:
➊ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب اسلام کو چاروں طرف سے خطرہ تھا اس وقت منافقین کی پکڑ دھکڑ نہیں کی گئی اور نہ انہیں قتل کیا گیا تاکہ لوگ یہ نہ کہتے پھریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں، اب یہ رخصت اور نرمی باقی نہیں رہی کیونکہ اسلام غالب ہو گیا۔ اب تو کفر یا اسلام ہی باقی رہ گیا ہے۔
➋ نفاق گناہ کبیرہ ہے۔ خليفة المسلمین اگر مناسب سمجھے تو منافقین کو سزا دے سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 62 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7114 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7114. سیدنا حذیفہ ؓ ہی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: منافقت تو نبی ﷺ کے عہد مبارک میں تھی، آج تو ایمان کے بعد کفر اختیار کرنا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7114]
حدیث حاشیہ:
1۔
دورحاضر کے منافقین اس لیے زیادہ شرارتی ہیں کہ انھوں نے وہ امور ظاہر کردیے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں زیر زمین کیے جاتے تھے۔
اس وقت لوگوں نے دلوں میں کفر چھپا رکھا تھا، البتہ ان کی گفتگو کے انداز سے ان کی شناخت ہوتی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آپ انھیں ان کے انداز گفتگو ہی سے پہچان لیں گے۔
‘‘ (محمد 47/30)
2۔
ایک سیدھے سادے اور صاف دل پکے مومن کی گفتگو میں ایسی پختگی اور سنجیدگی پائی جاتی ہے جو دل میں کھوٹ رکھنے والے شخص کے انداز کلام میں نہیں پائی جاتی۔
ہمارے رجحان کے مطابق حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقف یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام کی اطاعت سے خروج اور بغاوت جاہلیت ہے جبکہ اسلام میں جاہلیت کا تصور نہیں بلکہ ایسا کرنا اجتماعیت کو پارہ پارہ اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے مترادف ہے۔
واللہ اعلم۔
(فتح الباري: 93/13)
1۔
دورحاضر کے منافقین اس لیے زیادہ شرارتی ہیں کہ انھوں نے وہ امور ظاہر کردیے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں زیر زمین کیے جاتے تھے۔
اس وقت لوگوں نے دلوں میں کفر چھپا رکھا تھا، البتہ ان کی گفتگو کے انداز سے ان کی شناخت ہوتی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آپ انھیں ان کے انداز گفتگو ہی سے پہچان لیں گے۔
‘‘ (محمد 47/30)
2۔
ایک سیدھے سادے اور صاف دل پکے مومن کی گفتگو میں ایسی پختگی اور سنجیدگی پائی جاتی ہے جو دل میں کھوٹ رکھنے والے شخص کے انداز کلام میں نہیں پائی جاتی۔
ہمارے رجحان کے مطابق حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقف یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام کی اطاعت سے خروج اور بغاوت جاہلیت ہے جبکہ اسلام میں جاہلیت کا تصور نہیں بلکہ ایسا کرنا اجتماعیت کو پارہ پارہ اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے مترادف ہے۔
واللہ اعلم۔
(فتح الباري: 93/13)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7114 سے ماخوذ ہے۔