مشكوة المصابيح
كتاب المناقب— كتاب المناقب
(مُعَامَلَةٌ خَاصَّةٌ مَعَ حَضْرَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خصوصی معاملہ
حدیث نمبر: 6106
وَعَن عَليّ قَالَ: كَانَتْ لِي مَنْزِلَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ آتِيهِ بِأَعْلَى سَحَرٍ فَأَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَإِنْ تَنَحْنَحَ انْصَرَفْتُ إِلَى أَهْلِي وَإِلَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّالشیخ عبدالستار الحماد
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں جو میرا مقام و مرتبہ تھا وہ مخلوق میں سے کسی اور کا نہیں تھا، میں سحری کے اول وقت (رات کے آخری چھٹے حصے) میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا تو میں کہتا، اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو، اگر آپ کھانس دیتے تو میں اہل خانہ کے پاس واپس چلا جاتا، ورنہ میں آپ کے ہاں داخل ہو جاتا۔ اسنادہ حسن، رواہ النسائی۔