مشكوة المصابيح
كتاب المناقب— كتاب المناقب
(تَمَكُّنُ حَضْرَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي دِينِ الإِسْلَامِ) باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دین اسلام میں رسوخ
وَعَنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ» قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الدِّينَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میں سو رہا تھا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ میرے سامنے پیش کیے گئے ہیں، ان پر قمیصیں تھیں، ان میں سے کسی کی قمیص سینے تک پہنچتی تھی، کسی کی اس سے چھوٹی تھی، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مجھ پر پیش کیے گئے، ان پر جو قمیص تھی وہ (چلتے وقت) اسے گھسیٹتے تھے۔ ‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تاویل فرمائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’(اس سے) دین مراد ہے۔ ‘‘ متفق علیہ۔