حدیث نمبر: 60
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا زَنَى الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ فَكَانَ فَوْقَ رَأْسِهِ كَالظُّلَّةِ فَإِذا خرج من ذَلِك الْعَمَل عَاد إِلَيْهِ الايمان» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُدالشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جب بندہ زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل کر چھتری کی طرح اس کے سر پر ہو جاتا ہے، جب وہ اس عمل سے رجوع کر لیتا ہے تو ایمان بھی اس کی طرف پلٹ آتا ہے۔ ‘‘ اس حدیث کو ابوداؤد و ترمذی نے روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´ایمان کی بنیاد`
«. . . وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا زَنَى الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ فَكَانَ فَوْقَ رَأْسِهِ كَالظُّلَّةِ فَإِذا خرج من ذَلِك الْعَمَل عَاد إِلَيْهِ الايمان» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل کر اس کے سر پر سایہ کی طرح قائم رہتا ہے جب وہ اس برے کام سے فارغ ہو جاتا ہے تو اس کا ایمان پھر لوٹ آتا ہے۔“ اس حدیث کو ابوداؤد و ترمذی نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 60]
«. . . وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا زَنَى الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ فَكَانَ فَوْقَ رَأْسِهِ كَالظُّلَّةِ فَإِذا خرج من ذَلِك الْعَمَل عَاد إِلَيْهِ الايمان» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل کر اس کے سر پر سایہ کی طرح قائم رہتا ہے جب وہ اس برے کام سے فارغ ہو جاتا ہے تو اس کا ایمان پھر لوٹ آتا ہے۔“ اس حدیث کو ابوداؤد و ترمذی نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 60]
تحقیق الحدیث:
اس کی سند صحیح ہے۔
اسے ابوداود [4690] اور ترمذی بعد ح [2625] معلقاً بغیر سند روایت کیا ہے۔
اسے ابن مندہ [الايمان: 519] اور حاکم [1؍22 ح56] نے «سعيد بن ابي سعيد المقبري عن ابي هريره رضي الله عنه» کی سند سے روایت کیا ہے۔
اسے حاکم اور ذہبی دونوں نے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔
فقہ الحدیث:
➊ ایمان کے مختلف درجے ہیں۔
➋ کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے مسلمان کافر نہیں ہوتا۔
➌ یہ حدیث خوارج پر رد ہے۔
اس کی سند صحیح ہے۔
اسے ابوداود [4690] اور ترمذی بعد ح [2625] معلقاً بغیر سند روایت کیا ہے۔
اسے ابن مندہ [الايمان: 519] اور حاکم [1؍22 ح56] نے «سعيد بن ابي سعيد المقبري عن ابي هريره رضي الله عنه» کی سند سے روایت کیا ہے۔
اسے حاکم اور ذہبی دونوں نے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔
فقہ الحدیث:
➊ ایمان کے مختلف درجے ہیں۔
➋ کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے مسلمان کافر نہیں ہوتا۔
➌ یہ حدیث خوارج پر رد ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 60 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4690 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور بادل کے ٹکڑے کی طرح اس کے اوپر لٹکا رہتا ہے، پھر جب زنا سے الگ ہوتا ہے تو دوبارہ ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4690]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور بادل کے ٹکڑے کی طرح اس کے اوپر لٹکا رہتا ہے، پھر جب زنا سے الگ ہوتا ہے تو دوبارہ ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4690]
فوائد ومسائل:
ان احادیث میں مذکورہ افعال بد کی شناعت اور برائی اور ان کے مرتکب کی بد بختی کا بیان ہے جو کسی بھی ایماندارکےشایان شان نہیں۔
بالفرض ایسا آدمی اگر اسی حالت میں مر جائے تو غور کریں وہ کس حال میں مرا۔
فرقہ خوارج نے اس کےمعنی سمجھے ہیں۔
ایسا آدمی ایمان سے خارج اور حتمی طور پر کافر ہو جاتا ہے، مگر ان احادیث میں اس انتہا پسند انہ موقف اور غلو کی تردید ہوتی ہے۔
اہل السنتہ والجماعۃ کے نزدیک یہ اعمال کفر یہ ہیں، مگر قطی طور پر ملت سے اخراج کا سبب نہیں جانتے جس وقت کوئی ایسے اعمال میں مبتلا نہیں ہوتا اس وقت وہ کافر نہیں ہوتا، بلکہ اگر وہ توبہ کرلے تو ایمان کی کمی یا عارضی طور پر ایمان کی نفی کیفیت سے نکل آتا ہے، جسے کہ (کفر دون کفر) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
یعنی بڑے کفر سے چھوٹا کفر۔
ان احادیث میں مذکورہ افعال بد کی شناعت اور برائی اور ان کے مرتکب کی بد بختی کا بیان ہے جو کسی بھی ایماندارکےشایان شان نہیں۔
بالفرض ایسا آدمی اگر اسی حالت میں مر جائے تو غور کریں وہ کس حال میں مرا۔
فرقہ خوارج نے اس کےمعنی سمجھے ہیں۔
ایسا آدمی ایمان سے خارج اور حتمی طور پر کافر ہو جاتا ہے، مگر ان احادیث میں اس انتہا پسند انہ موقف اور غلو کی تردید ہوتی ہے۔
اہل السنتہ والجماعۃ کے نزدیک یہ اعمال کفر یہ ہیں، مگر قطی طور پر ملت سے اخراج کا سبب نہیں جانتے جس وقت کوئی ایسے اعمال میں مبتلا نہیں ہوتا اس وقت وہ کافر نہیں ہوتا، بلکہ اگر وہ توبہ کرلے تو ایمان کی کمی یا عارضی طور پر ایمان کی نفی کیفیت سے نکل آتا ہے، جسے کہ (کفر دون کفر) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
یعنی بڑے کفر سے چھوٹا کفر۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4690 سے ماخوذ ہے۔