مشكوة المصابيح
كتاب الفضائل والشمائل— كتاب الفضائل والشمائل
(نِسْبَةُ شَيْءٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات منسوب کرنا
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من تَقول عَليّ مالم أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» . وَذَلِكَ أَنَّهُ بَعَثَ رَجُلًا فَكَذَبَ عَلَيْهِ فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مَيِّتًا وَقد انشقَّ بَطْنه وَلم تقبله الأَرْض. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّةاسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے میرے ذمے ایسی بات لگائی جو میں نے نہ کہی ہو تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ ‘‘ اور آپ نے یہ اس لیے فرمایا کہ آپ نے کسی آدمی کو (کہیں) بھیجا تو اس نے آپ پر جھوٹ بولا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے بددعا فرمائی، اسے مردہ پایا گیا، اس کا پیٹ چاک ہو چکا تھا اور زمین نے اسے قبول نہیں کیا۔ دونوں احادیث کو امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے۔ اسنادہ ضعیف جذا، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ۔