مشكوة المصابيح
كتاب الصلاة— كتاب الصلاة
(أَوَّلُ وَآخِرُ أَوْقَاتِ الصَّلَاةِ الجَمَاعَةِ) باب: پانچ نمازوں کے اوقات
عَن عبد اللَّهِ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاة فَإِنَّهَا تطلع بَين قَرْني شَيْطَان» . رَوَاهُ مُسلمعبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’نماز ظہر کا وقت، زوال آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جانے اور عصر کا وقت نہ ہونے تک رہتا ہے، اور عصر کا وقت سورج کے زرد ہو جانے سے پہلے تک رہتا ہے، اور مغرب کا وقت شفق (غروب آفتاب کے بعد افق پر جو سرخی ہوتی ہے) کے رہنے تک رہتا ہے، اور عشاء کا وقت نصف شب تک رہتا ہے جبکہ نماز فجر کا وقت طلوع فجر سے طلوع آفتاب سے پہلے تک رہتا ہے، اور جب سورج طلوع ہونے لگے تو پھر نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیطان کے سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔ ‘‘ رواہ مسلم۔