مشكوة المصابيح
كتاب الفضائل والشمائل— كتاب الفضائل والشمائل
(بَيَانُ شَمَائِلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) باب: شمائل نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ وَكَانَ إِذَا ادَّهَنَ لَمْ يَتَبَيَّنْ وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ وَكَانَ كَثِيرَ شَعْرِ اللِّحْيَةِ فَقَالَ رَجُلٌ: وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ؟ قَالَ: لَا بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَكَانَ مُسْتَدِيرًا وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَة الْحَمَامَة يشبه جسده . رَوَاهُ مُسلمجابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک اور داڑھی کے اگلے حصے کے کچھ بال سفید ہو چکے تھے، جب آپ تیل لگاتے تھے تو وہ نظر نہیں آتے تھے، اور جب آپ کے سر کے بالوں میں کنگھی نہیں کی ہوتی تھی تو وہ نظر آ جاتے تھے، آپ کی داڑھی کے بال گھنے تھے، کسی آدمی نے کہا: آپ کا چہرہ مبارک (چمک کے لحاظ سے) تلوار کی طرح تھا، جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، بلکہ سورج اور چاند کی طرح چمکتا تھا، رخ انور گول تھا، میں نے آپ کے کندھے کے پاس مہر نبوت دیکھی جو کہ کبوتری کے انڈے کی طرح تھی اور وہ آپ کے جسم اطہر (کے رنگ) کے مشابہ تھی۔ رواہ مسلم۔