مشكوة المصابيح
كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق— كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق
(خَلْقُ الدُّنْيَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ) باب: چھ دن میں دنیا کو پیدا کیا
حدیث نمبر: 5734
وَعَنْهُ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ فَقَالَ: «خلق الله الْبَريَّة يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ وَخلق الشّجر يَوْم الِاثْنَيْنِ وَخلق الْمَكْرُوه يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَخَلَقَ آدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ وَآخِرِ سَاعَةٍ مِنَ النَّهَارِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلى اللَّيْل» . رَوَاهُ مُسلمالشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ’’اللہ نے مٹی (زمین) کو ہفتے کے دن پیدا فرمایا، اتوار کے روز اس میں پہاڑ پیدا فرمائے، پیر کے دن درخت پیدا فرمائے، مکروہ چیزیں منگل کے دن پیدا فرمائیں، بدھ کے روز نور پیدا فرمایا، جمعرات کے روز اس میں چوپائے پھیلائے اور آدم ؑ کو جمعہ کے دن عصر کے بعد مخلوق میں سب سے آخر پر پیدا فرمایا، اور دن کی آخری گھڑی عصر اور شام کے درمیان ہے۔ ‘‘ رواہ مسلم۔