مشكوة المصابيح
كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق— كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق
(عِنْدَ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَتِ المَلَائِكَةُ: ...) باب: آدم علیہ السلام کا وجود بنایا گیا تو فرشتوں نے کہا: ۔ ۔ ۔
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَذُرِّيَّتَهُ قَالَتِ: الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبِّ خَلَقْتَهُمْ يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ وَيَنْكِحُونَ وَيَرْكَبُونَ فَاجْعَلْ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةَ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: لَا أَجْعَلُ مَنْ خَلَقْتُهُ بيديَّ ونفخت فِيهِ مِنْ رُوحِي كَمَنْ قُلْتُ لَهُ: كُنْ فَكَانَ «. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي» شُعَبِ الْإِيمَانِجابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جب اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ اور اس کی اولاد کو پیدا فرمایا تو فرشتوں نے عرض کیا، رب جی! تو نے انہیں پیدا فرمایا ہے، وہ کھاتے پیتے، شادیاں کرتے اور سواری کرتے ہیں، اور تو ان کے لیے دنیا مقرر کر دے اور ہمارے لیے آخرت مقرر فرما دے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اس (مخلوق) کو، جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے تخلیق کیا اور اس میں اپنی روح پھونکی، اسے میں اس مخلوق کے برابر نہیں کروں گا جسے میں نے کہا بن جا اور وہ بن گئی۔ ‘‘ اسنادہ ضعیف، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔