حدیث نمبر: 57
‏‏‏‏وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مثل الْمُنَافِق كَمثل الشَّاة الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغُنْمَيْنِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِه مرّة» . رَوَاهُ مُسلم
الشیخ عبدالستار الحماد

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’منافق کی مثال اس متردد بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان ہو، کبھی وہ اس کی طرف جاتی ہے کبھی اس کی طرف۔ ‘‘ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 57
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2784/ 17)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2784

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
´منافق کی علامات`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مثل الْمُنَافِق كَمثل الشَّاة الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغُنْمَيْنِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِه مرّة» . رَوَاهُ مُسلم . . .»
. . . سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو نر کی تلاش میں دو ریوڑوں کے درمیان بھاگی پھرتی ہے، کبھی اس ریوڑ اور کبھی اُس ریوڑ کی طرف جاتی ہے۔ [مسلم] . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 57]
تخریج: [صحيح مسلم 7043]

فقہ الحدیث:
➊ عملی نفاق کبیرہ گناہوں میں سے ہے جب کہ اعتقادی نفاق کفر ہے۔
➋ دو کشتیوں پر بیک وقت پاؤں رکھنے والا بالآخر ڈوب جاتا ہے۔ اسے اس کا دوغلا پن ذرہ بھی فائدہ نہیں پہنچاتا۔
➌ منافقین اصل میں حیوانات سے بھی بدتر ہیں۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 57 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2784 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"منافق کی تمثیل اس بکری کی طرح ہے، بکریوں میں حیران و پریشان گھومتی پھرتی ہے،کبھی اس کی طرف بھاگتی ہے، کبھی اس کی طرف دوڑتی ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7043]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
العائرة: حیران وپریشان ہو کر ادھر ادھر گھومنے والی، جس کو پتہ ہی نہیں، میرا ریوڑ کون ساہے، مجھے کس کے ساتھ جانا ہے، یہی حالت منافق کی ہے، نہ وہ کافروں کےساتھ کھڑا ہوتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کا ساتھ اختیار کرتا ہے، تعير: آتی جاتی ہے، گھومتی پھرتی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2784 سے ماخوذ ہے۔