مشكوة المصابيح
كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق— كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق
(مَاذَا سَيَفْعَلُ المَاءُ المَغْلِيُّ؟) باب: کھولتا ہوا پانی کیا کیا کرے گا
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: (يُسْقَى مِنْ مَاءٍ صديد يتجرَّعُه) قَالَ: يُقَرَّبُ إِلَى فِيهِ فَيَكْرَهُهُ فَإِذَا أُدْنِي مِنْهُ شَوَى وَجْهَهُ وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ فَإِذَا شَرِبَهُ قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ دُبُرِهِ. يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: (وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أمعاءهم) وَيَقُولُ: (وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوه بئس الشَّرَاب) رَوَاهُ التِّرْمِذِيّابوامامہ رضی اللہ عنہ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ’’اسے پیپ پلائی جائے گی تو وہ اسے گھونٹ گھونٹ پیئے گا۔ ‘‘ فرمایا: ’’وہ اس کے منہ کے قریب کیا جائے گا تو وہ اسے ناپسند کرے گا، جب اسے اس کے قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ جل جائے گا، اس کے سر کی جلد گر پڑے گی، جب وہ اسے پیئے گا تو اس کی انتڑیاں کٹ جائیں گی حتی کہ وہ اس کی دبر (پیٹھ) کے راستے باہر نکل آئے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی انتڑیاں کاٹ ڈالے گا۔ ‘‘ اور وہ فرماتا ہے: ’’اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تل چھٹ کی طرح ہو گا، چہروں کو بھون ڈالے گا، برا پینا ہے۔ ‘‘ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔