مشكوة المصابيح
كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق— كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق
(ذِكْرُ الكَوْثَرِ) باب: کوثر کا ذکر
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ماالكوثر؟ قَالَ: «ذَاكَ نَهْرٌ أَعْطَانِيهِ اللَّهُ يَعْنِي فِي الْجَنَّةِ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ فِيهِ طَيْرٌ أَعْنَاقُهَا كَأَعْنَاقِ الْجُزُرِ» قَالَ عُمَرُ: إِنَّ هَذِهِ لَنَاعِمَةٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّانس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا، کوثر کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ ایک نہر ہے جو اللہ نے مجھے عطا کی ہے، یعنی وہ مجھے جنت عطا کرے گا، (اس کا پانی) دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس میں ایک پرندہ ہے جس کی گردن اونٹ کی گردن کی طرح ہے۔ ‘‘ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یہ تو پھر بہت اچھی نعمت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کو کھانے والے اس سے بھی زیادہ اچھے ہیں۔ ‘‘ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی۔