مشكوة المصابيح
كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق— كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق
(بَيَانُ لَبِنَاتِ الجَنَّةِ وَطِينِهَا) باب: جنت کی اینٹوں اور گارے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّ خُلِقَ الْخَلْقُ؟ قَالَ: «مِنَ الْمَاءِ» . قُلْنَا: الْجَنَّةُ مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ: «لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ وَتُرْبَتُهَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلَا يَبْأَسُ وَيَخْلُدُ وَلَا يَمُوتُ وَلَا يَبْلَى ثِيَابُهُمْ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُمْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ والدارميابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مخلوق کو کس چیز سے پیدا کیا گیا؟ فرمایا: ’’پانی سے۔ ‘‘ ہم نے عرض کیا: جنت کی تعمیر کیسے ہوئی؟ فرمایا: ’’ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی، اس کا گارا تیز خوشبو والی کستوری کا ہے، اس کی چپس ہیرے جواہرات اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جو اس میں داخل ہو گا وہ خوشحال رہے گا، بدحال نہیں ہو گا، وہاں ہمیشہ رہے گا، فوت نہیں ہو گا، اس کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے نہ اس کی جوانی ختم ہو گی۔ ‘‘ سندہ ضعیف، رواہ احمد و الترمذی و الدارمی۔