مشكوة المصابيح
كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق— كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق
(اللَّهُ تَعَالَى يُحْيِي النَّاسَ كَمَا يَنْبُتُ الزَّرْعُ بَعْدَ الجَفَافِ) باب: اللہ تعالیٰ انسانوں کو ایسے زندہ کرے گا جیسے سوکھے کے بعد سبزہ اگتا ہے
وَعَن أبي رزين الْعقيلِيّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُعِيدُ الله الْخلق؟ مَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: «أَمَا مَرَرْتَ بِوَادِي قَوْمِكَ جَدْبًا ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ يَهْتَزُّ خَضِرًا؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَتِلْكَ آيَةُ اللَّهِ فِي خلقه (كَذَلِك يحيي اللَّهُ الْمَوْتَى) رَوَاهُمَا رزينابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! اللہ مخلوق کو دوبارہ کیسے پیدا فرمائے گا۔ اور اس کی مخلوق میں کون سی نشانی (موجود) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم کبھی اپنی قوم کی خشک و سخت وادی سے گزرے ہو؟ پھر تم وہاں سے گزرتے ہو تو وہ سرسبز و شاداب لہلہا رہی ہوتی ہے۔ ‘‘ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ اللہ کی اس کی مخلوق میں نشانی ہے، اللہ اسی طرح مردوں کو زندہ کرے گا۔ ‘‘ دونوں احادیث رزین نے نقل کی ہیں۔ اسنادہ حسن، رواہ رزین (لم اجدہ)۔