مشكوة المصابيح
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
(خُرُوجُ الإِيمَانِ عِنْدَ ارْتِكَابِ الكَبَائِرِ) باب: ارتکاب کبائر کے وقت ایمان کا خروج
وَفِي رِوَايَة ابْن عَبَّاس: «وَلَا يَقْتُلُ حِينَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ» . قَالَ عِكْرِمَةُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ يُنْزَعُ الْإِيمَانُ مِنْهُ؟ قَالَ: هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَإِنْ تَابَ عَادَ إِلَيْهِ هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: لَا يَكُونُ هَذَا مُؤْمِنًا تَامًّا وَلَا يَكُونُ لَهُ نُورُ الْإِيمَان. هَذَا لفظ البُخَارِيّسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: ’’جس وقت قاتل قتل کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ ‘‘ عکرمہ بیان کرتے ہیں، میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اس سے ایمان کیسے نکال لیا جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس طرح اور انہوں نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں اور پھر انہیں نکال لیا، پس اگر وہ توبہ کر لے تو ایمان اس کی طرف اس طرح لوٹ آتا ہے، اور انہوں نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں، اور ابوعبداللہ (امام بخاری ؒ) نے فرمایا: ایسا شخص کامل مومن ہو گا نہ اس کے لیے نور ایمان ہو گا۔ ‘‘ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . وَفِي رِوَايَة ابْن عَبَّاس: «وَلَا يَقْتُلُ حِينَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ» . قَالَ عِكْرِمَةُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ يُنْزَعُ الْإِيمَانُ مِنْهُ؟ قَالَ: هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَإِنْ تَابَ عَادَ إِلَيْهِ هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: لَا يَكُونُ هَذَا مُؤْمِنًا تَامًّا وَلَا يَكُونُ لَهُ نُورُ الْإِيمَان. هَذَا لفظ البُخَارِيّ . . .»
”. . . اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ مومن کا قتل کرنے والا مومن کے قتل کے وقت مومن نہیں رہتا ہے۔ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ جو کہ اس کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ایمان کس طرح لوگوں کے دلوں سے نکال لیا جاتا ہے؟ انہوں نے اشارہ کر کے فرمایا: اس طرح سے اور پنجوں میں پنجہ ملایا یعنی انگلیوں میں انگلیاں ڈال لی پھر اس کو نکال لیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر ان باتوں سے توبہ کر لی تو ایمان واپس لوٹ آتا ہے۔ اس کو پنجے میں پنجہ ملا کر بتایا کہ اس طرح ایمان واپس آ جاتا ہے۔ ابوعبداللہ یعنی امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے ان گناہوں کا ارتکاب کرنے والا مومن نہیں یعنی پورا اور کامل مومن نہیں رہتا ہے اور کامل ایمان کی روشنی نہیں باقی رہتی ہے۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 54]
[صحيح بخاري 6809]
فقہ الحدیث:
➊ معلوم ہوا کہ ایمان کے بہت سے درجے ہیں، ایمان زیادہ بھی ہوتا ہے اور کم بھی ہوتا ہے۔ چوری اور زنا وغیرہ کبیرہ گناہ کرنے والے کا ایمان، گناہ کی حالت میں اس کے جسم سے نکل کر اس کے سر پر چھتری کی طرح بلند ہو جاتا ہے۔ ایمان نکلنے کے باوجود یہ شخص کافر نہیں ہوتا، بلکہ گناہ گار مسلمان ہی رہتا ہے، بشرطیکہ نواقض اسلام کا ارتکاب نہ کرے۔
➋ زنا، چوری اور مال غنیمت میں خیانت کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔
تنبیہ: جو لوگ مدرسوں، مساجد، تنظیموں، جماعتوں اور رفاہی کاموں کے بہانے سے چندے کا مال کھا جاتے ہیں وہ بھی اسی حکم میں ہیں۔ انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ ایک دن علیم بذات الصدور کے سامنے پیش ہو کر ذرے ذرے کا حساب دینا ہے۔ ایک شخص نے مال غنیمت میں سے ایک چادر چرا لی تھی تو وہی چادر جہنم کی آگ بن کر اس کے جسم سے چمٹ گئی تھی۔
➌ عالم کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو عام فہم مثالیں دے کر سمجھائے۔
(1)
ایک روایت کے مطابق حضرت عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ایمان کس طرح نکال لیا جاتا ہے تو انھوں نے اپنی انگلیوں کو انگلیوں میں ڈالا، پھر ان کو نکال کر دکھایا کہ اس طرح ایمان نکال لیا جاتا ہے اگر توبہ کر لے تو اس طرح لوٹ آتا ہے، پھر انھوں نے انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر دکھائیں۔
(صحیح البخاري، الحدود، حدیث: 6809)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جب انسان زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل کر چھتری کی طرح ہو جاتا ہے۔
اگر اس سے باز آجائے تو وہ اس میں لوٹ آتا ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایمان نکل جانے کی وضاحت یوں بیان کی ہے کہ فراغت کے بعد مجرم کی یہ حالت نہیں رہتی بلکہ ایمان لوٹ آتا ہے۔
(المصنف لعبدالرزاق: 416/7، حدیث: 13685، وفتح الباري: 72/12)
یہ بھی احتمال ہے کہ کلی طور پر اس سے پرہیز کرنا اس کی واپسی کا باعث ہو۔
اگر گناہ کے بعد اسے اصرار ہے تو وہ گویا مرتکب کی طرح ہے، اس سے ایمان خارج ہی رہتا ہے جیسا کہ حضرت عکرمہ کے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت اس کی وضاحت کرتی ہے، البتہ ایک روایت میں ہے کہ اگر وہ فارغ ہو جائے تو ایمان لوٹ آتاہے۔
(سنن أبي داود، السنة، حدیث: 4690)
واللہ أعلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے زنا نہیں کرتا، کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے چوری نہیں کرتا، کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے شراب نہیں پیتا اور نہ ہی وہ ایمان رکھتے ہوئے کوئی ایسی بڑی لوٹ کرتا ہے جس کی طرف لوگوں کی نظریں اٹھتی ہوں “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4874]