مشكوة المصابيح
كتاب الآداب— كتاب الآداب
(التَّكَبُّرُ وَجَحْدُ الحَقِّ وَاحْتِقَارُ النَّاسِ) باب: تکبر ، حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا
حدیث نمبر: 5108
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنَ كِبْرٍ» . فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنًا. قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ. الْكِبَرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاس» . رَوَاهُ مُسلمالشیخ عبدالستار الحماد
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ ‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا، آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اور اس کے جوتے اچھے ہوں۔ (کیا یہ بھی تکبر ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک اللہ صاحب جمال ہے اور وہ جمال کو پسند فرماتا ہے، تکبر سے مراد، حق بات کو ٹھکرانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ ‘‘ رواہ مسلم۔