مشكوة المصابيح
كتاب الآداب— كتاب الآداب
(مَعُونَةُ اللهِ تَعَالَى مَعَ مَنْ يَتَجَاوَزُ) باب: درگزر کرنے والے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد
حدیث نمبر: 4924
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لي قَرَابةَ أصلهم ويقطعوني وَأحسن إِلَيْهِم ويسيؤون إِلَيّ وأحلم عَلَيْهِم وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ. فَقَالَ: «لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ» . رَوَاهُ مُسلمالشیخ عبدالستار الحماد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا، اللہ کے رسول! میرے کچھ رشتہ دار ہیں، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان سے حسن سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بدسلوکی کرتے ہیں، میں ان سے درگزر کرتا ہوں اور وہ مجھ پر زیادتی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تمہارا بیان درست ہے تو پھر تم ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہے ہو، جب تک تم اس روش پر قائم رہو گے تو ان کے خلاف اللہ کی طرف سے تمہیں مدد پہنچتی رہے گی۔ ‘‘ رواہ مسلم۔