مشكوة المصابيح
كتاب الآداب— كتاب الآداب
(ذَمُّ الْأَشْعَارِ الْمَبْنِيَّةِ عَلَى اللَّهْوِ وَاللَّعِبِ) باب: لہو و لعب پر مبنی اشعار کی مذمت
حدیث نمبر: 4809
وَعَن أبي سعيدٍ الخدريِّ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالعرج إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا الشَّيْطَانَ أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لِأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌالشیخ عبدالستار الحماد
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (یمن کے علاقے) عرج میں سفر کر رہے تھے کہ ایک شاعر سامنے آیا اور وہ اشعار کہنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’(اس) شیطان کو پکڑو۔ ‘‘ یا فرمایا: ’’(اس) شیطان کو (شعر کہنے سے) روکو، یہ کہ کسی آدمی کے پیٹ کا پیپ سے بھرنا اس کے لیے شعر کے ساتھ بھرنے سے بہتر ہے۔ ‘‘ رواہ مسلم۔