مشكوة المصابيح
كتاب الآداب— كتاب الآداب
(الْمُصَافَحَةُ تَكْمِلُ السَّلَامَ) باب: مصافحہ سلام کی تکمیل ہے
حدیث نمبر: 4681
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: تَمَامُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ أَنْ يَضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ أَوْ عَلَى يَدِهِ فَيَسْأَلَهُ: كَيْفَ هُوَ؟ وَتَمَامُ تَحِيَّاتِكُمْ بَيْنَكُمُ الْمُصَافَحَةُ . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَضَعفهالشیخ عبدالستار الحماد
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’مریض کی عیادت اس طرح پوری ہوتی ہے کہ تم میں سے کوئی ایک اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر یا اس کے ہاتھ پر رکھ کر اس سے دریافت کرے: ’’کیا حال ہے؟‘‘ اور تمہارا آپس میں پورا سلام دعا، مصافحہ کرنا ہے۔ ‘‘ احمد، ترمذی، اور امام ترمذی ؒ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد و الترمذی۔