مشكوة المصابيح
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
(النَّهْيُ عَنِ الإِسْرَافِ فِي الوُضُوءِ) باب: وضو میں اسراف کی ممانعت
حدیث نمبر: 427
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ: «مَا هَذَا السَّرَفُ يَا سَعْدُ» . قَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ سَرَفٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهْرٍ جَارٍ» . رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَهالشیخ عبدالستار الحماد
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ وضو کر رہے تھے، آپ نے فرمایا: ’’سعد! یہ کیسا اسراف ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: کیا وضو کرنے میں بھی اسراف ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں، خواہ تم نہر رواں پر ہوں۔ ‘‘ ضعیف۔