مشكوة المصابيح
كتاب الأطعمة— كتاب الأطعمة
(كَثْرَةُ الطَّعَامِ سَبَبٌ لِذَهَابِ الْبَرَكَةِ) باب: زیادہ کھانا بےبرکتی کا سبب
حدیث نمبر: 4238
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ غُلَامًا فَأَلْقَى بَيْنَ يَدَيْهِ تَمْرًا فَأَكَلَ الْغُلَامُ فَأَكْثَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ كَثْرَةَ الْأَكْلِ شُؤْمٌ» . وَأَمَرَ بِرَدِّهِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَانالشیخ عبدالستار الحماد
عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک غلام خریدنا چاہا تو آپ نے اس کے سامنے کھجوریں رکھیں، اس غلام نے بہت زیادہ کھجوریں کھا لیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک زیادہ کھانا بے برکتی ہے۔ ‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے واپس کرنے کا حکم فرمایا۔ اسنادہ ضعیف جذا موضوع، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔