مشكوة المصابيح
كتاب الصيد والذبائح— كتاب الصيد والذبائح
(بَيَانُ كِلَابِ حِرَاسَةِ الْحُقُولِ وَالْقَطِيعِ) باب: کھیت اور ریوڑ کی رکھوالی کرنے والے کتوں کا بیان
عَن عبد الله بنِ مُغفَّلٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا كُلِّهَا فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ: «وَمَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يَرْتَبِطُونَ كَلْبًا إِلَّا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ كَلْبَ غنم»عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر کتے اللہ تعالیٰ کی مخلوق نہ ہوتے تو میں ان سب کو قتل کرنے کا حکم فرماتا، تم ان میں سے انتہائی سیاہ کو قتل کرو۔ ‘‘ ابوداؤد، دارمی۔ اور امام ترمذی اور امام نسائی نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: ’’جو گھر والے شکاری کتے، کھیتی باڑی کی یا بکریوں کی حفاظت والے کتے کے سوا کوئی کتا پالتے ہیں، ان کے عمل میں سے روزانہ ایک قراط کم کر دیا جاتا ہے۔ ‘‘ سندہ ضعیف، رواہ ابوداؤد و الدارمی و الترمذی و النسائی۔