مشكوة المصابيح
كتاب الصيد والذبائح— كتاب الصيد والذبائح
(شَرْطُ التَّكْبِيرِ لِحِلِّ الذَّبِيحَةِ) باب: ذبیحہ حلال ہونے کے لیے تکبیر کی شرط
حدیث نمبر: 4081
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أَحَدُنَا أَصَابَ صَيْدًا وَلَيْسَ مَعَهُ سِكِّينٌ أَيَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا؟ فَقَالَ: «أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَ شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّالشیخ عبدالستار الحماد
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بتائیں کہ ہم میں سے کسی کو شکار مل جائے اور اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا وہ اسے پتھر اور لاٹھی کے کنارے سے ذبح کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’خون بہاؤ جس کے ساتھ چاہو، اور اللہ کا نام لو۔ ‘‘ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد و النسائی۔