حدیث نمبر: 38
‏‏‏‏وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثِنْتَانِ مُوجِبَتَانِ. -[18]- قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُوجِبَتَانِ؟ قَالَ: مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئا دخل الْجنَّة . ‏‏‏‏ رَوَاهُ مُسلم ‏‏‏‏ 
الشیخ عبدالستار الحماد

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’دو خصلتیں باعث موجب ہیں۔ ‘‘ کسی شخص نے عرض کیا۔ اللہ کے رسول! وہ دو موجب کیا ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہوا فوت ہو جائے، تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ اور جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ‘‘ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مشكوة المصابيح / كتاب الإيمان / حدیث: 38
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صَحِيحٌ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «(رَوَاهُ مُسلم)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 93

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
´موحد اور مشرک کا انجام`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثِنْتَانِ مُوجِبَتَانِ. -[18]- قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُوجِبَتَانِ؟ قَالَ: (مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئا دخل الْجنَّة) . . .»
. . . سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو باتیں واجب کرنے والی ہیں۔ ایک شخص نے عرض کیا: کیا واجب کرنے والی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوزخ یا جنت واجب کرنے والی ہیں، اگر شرک پر مرا ہے تو جہنم میں داخل ہو گا اور اگر توحید پر مرا ہے اس نے شرک نہیں کیا ہے وہ جنت میں داخل ہو گا . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 38]
تخریج: [صحيح مسلم 269]

فقہ الحدیث:
➊ شرک ایسا گناہ ہے جو تمام اعمال صالحہ کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔ اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت ہر دور میں شرک میں مبتلا رہی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: «وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّـهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ»
اور لوگوں کی اکثریت اللہ پر ایمان لانے (کا دعویٰ کرنے) کے باوجود شرک کرتی ہے۔ [سورة يوسف: 106]
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 38 سے ماخوذ ہے۔