مشكوة المصابيح
كتاب الإمارة والقضاء— كتاب الإمارة والقضاء
(ذَمُّ إِغْلَاقِ الأَبْوَابِ دُونَ الرَّعَايَا) باب: رعایا پر دروازے بند کرنے کی مذمت
عَنْ أَبِي الشَّمَّاخِ الْأَزْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَى مُعَاوِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا ثُمَّ أَغْلَقَ بَابَهُ دُونَ الْمُسْلِمِينَ أَوِ الْمَظْلُومِ أَوْ ذِي الْحَاجَةِ أَغْلَقَ اللَّهُ دُونَهُ أَبْوَابَ رَحْمَتِهِ عِنْدَ حَاجَتِهِ وَفَقْرِهِ أَفْقَرَ مَا يَكُونُ إليهِ»ابوشماخ ازدی اپنے چچا زاد سے، جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں، روایت کرتے ہیں کہ وہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جسے لوگوں کے کسی معاملے کی ذمہ داری سونپی جائے، پھر وہ مسلمانوں یا مظلوموں یا حاجت مندوں کی ضرورتوں سے دروازے بند کر لے تو اللہ اس کی حاجت اور ضرورت کے وقت، جبکہ وہ انتہائی ضرورت مند ہو، اپنی رحمت کے دروازے بند کر لیتا ہے۔ ‘‘ حسن، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔