مشكوة المصابيح
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
(نَارُ الجَحِيمِ حَرَامٌ عَلَى المُؤْمِنِ) باب: مومن پر دوزخ کی آگ حرام ہے
حدیث نمبر: 37
وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ مُسلمالشیخ عبدالستار الحماد
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کو اس حالت میں موت آئے کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ‘‘ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
´نجات صرف اللہ و رسول پر ایمان لانے اور قرآن و حدیث پر عمل کرنے پر ہی موقوف ہے`
«. . . وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ» . . .»
”. . . سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مر گیا اس حال میں کہ وہ اس بات کو یقینی طور پر جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمائے گا . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 37]
تخریج:
[صحيح مسلم 136]
«. . . وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ» . . .»
”. . . سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مر گیا اس حال میں کہ وہ اس بات کو یقینی طور پر جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمائے گا . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 37]
تخریج:
[صحيح مسلم 136]
فقہ الحدیث:
➊ نجات صرف اللہ و رسول پر ایمان لانے اور قرآن و حدیث پر عمل کرنے پر ہی موقوف ہے۔ توحید و سنت کے بغیر اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ توحید کو ماننے والا ہی جنتی ہے۔
➋ توحید سے پہلے اس کا علم ہونا اور پھر دل، زبان اور جسم سے اس کی تصدیق کرنا ہی ایمان ہے۔
➊ نجات صرف اللہ و رسول پر ایمان لانے اور قرآن و حدیث پر عمل کرنے پر ہی موقوف ہے۔ توحید و سنت کے بغیر اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ توحید کو ماننے والا ہی جنتی ہے۔
➋ توحید سے پہلے اس کا علم ہونا اور پھر دل، زبان اور جسم سے اس کی تصدیق کرنا ہی ایمان ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 37 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 26 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حمرانؒ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اس یقین پر مرا کہ اللہ تعالیٰ کے سِوا کوئی عبادت کا حق دار نہیں ہے، وہ جنّت میں داخل ہو گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:136]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
اہل سنت اور اہل حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ توحید پر مرنے والا جنتی ہے اگر وہ گناہوں سے بچا ہو۔
صحیح تو یہ ہے کہ وہ سیدھا جنت میں داخل ہوگا، اگر اس نے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا اور توبہ کی توفیق نہ ملی، تو پھر اللہ تعالیٰ کی مرضی، اس کے گناہ معاف کر دے اور جنت میں داخل کرے، یا اس کے گناہوں کے مطابق دوزخ میں داخل کر کے گناہوں سے پاک صاف کر کے جنت میں لے جائے۔
بہر حال وہ انجام کے اعتبار سےجنتی ہے۔
تو حید کے اقرار وشہادت کے لیے رسالت وآخرت پر یقین وایمان لازم ہے، ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔
اہل سنت اور اہل حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ توحید پر مرنے والا جنتی ہے اگر وہ گناہوں سے بچا ہو۔
صحیح تو یہ ہے کہ وہ سیدھا جنت میں داخل ہوگا، اگر اس نے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا اور توبہ کی توفیق نہ ملی، تو پھر اللہ تعالیٰ کی مرضی، اس کے گناہ معاف کر دے اور جنت میں داخل کرے، یا اس کے گناہوں کے مطابق دوزخ میں داخل کر کے گناہوں سے پاک صاف کر کے جنت میں لے جائے۔
بہر حال وہ انجام کے اعتبار سےجنتی ہے۔
تو حید کے اقرار وشہادت کے لیے رسالت وآخرت پر یقین وایمان لازم ہے، ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 26 سے ماخوذ ہے۔